انوارالعلوم (جلد 12) — Page 95
۹۵ اور مال کو قربان کر کے مسلمانوں کو اس ذلت سے بچائیں جس میں وہ اس وقت مبتلا ہیں اور کشمیر والوں نے ایک انجمن سات آدمیوں کی ایسی بنائی ہے جس کے ہاتھ میں سب کام دے دیا گیا ہے- ہو سکتا ہے کہ انجمن اپنے میں سے کسی کو یا اپنے حلقہ سے باہر سے کسی شخص کو نمائندہ مقرر کر کے بھیج دے- اسی طرح گاؤں کے علاقوں سے بھی نمائندے بلوائے جا سکتے ہیں- اگر ریاست کشمیر کی طرف سے روک کا احتمال ہو تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان نمائندوں کا علم بھی کسی کو نہ دیا جائے- لیکن اگر بفرض محال ہم کشمیر سے نمائندے طلب نہ بھی کر سکیں تو پھر ہم یہ کر سکتے ہیں کہ ایک دو معتبر آدمیوں کو اپنی طرف سے کشمیر بھجوا دیں- وہ بہت معروف نہ ہوں اور نہ ان کے نام شائع کئے جائیں- کشمیر پہنچ کر وہ کشمیر کی انجمن اور دوسرے علاقوں کے سربرآوردہ لوگوں سے مشورہ کر کے ان کے خیالات کو نوٹ کر کے لے آئیں اور کانفرنس میں ان سے فائدہ اٹھا لیا جائے- کانفرنس کی ہیئت ِترکیبی بہرحال کشمیر کے حقیقی مطالبات کا علم ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ مختلف علاقوں میں مختلف طور سے ظلم ہو رہا ہے اور ہم دور بیٹھے اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے- لیکن باوجود اس کے میرا یہ مطلب نہیں کہ اگر کشمیر کے نمائندے نہ آ سکیں تو ہم کوئی کام ہی نہ کریں- اگر ان سب تجاویز میں سے کسی پر بھی عمل نہ ہو تو بھی ہمیں کانفرنس کرنی چاہئے- جو باشندگان کشمیر‘ کشمیر سے باہر ہیں وہ کم کشمیری نہیں ہیں- ہم ان کی مدد سے جس حد تک مکمل ہو سکے‘ اپنی سکیم تیار کر سکتے ہیں- یہ ضروری ہے کہ یہ کانفرنس تمام فرقوں اور تمام اقوام کی نمائندہ کانفرنس ہو تا کہ متفقہ کوشش سے کشمیر کے سوال کو حل کیا جائے- اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس غرض کے لئے ان مسلمانوں کو بھی ضرور دعوت دینی چاہئے جو کانگرس سے تعلق رکھتے ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ وہ لوگ اس کام میں دوسرے مسلمانوں سے پیچھے رہیں گے- پبلسٹی کمیٹی کی ضرورت ‘’سیاست’‘ کے مضمون نگار صاحب نے ایک پبلسٹی کمیٹی کشمیر کے قیام کی بھی تجویز کی ہے‘ میں اس سے بالکل متفق ہوں- اور یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس بارہ میں میں کشمیر کے دوستوں کو پہلے سے لکھ چکا ہوں کہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو کامیاب کرنے کے لئے ہندوستان اور اس کے باہر بھی پروپیگنڈا کی ضرورت ہوگی- اور میں اس کام میں سے یہ حصہ اپنے ذمہ لیتا ہوں کہ پارلیمنٹ کے ممبروں اور