انوارالعلوم (جلد 12) — Page 94
۹۴ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم معاملات کشمیر کے حل کے متعلق جلسہ شورٰی (تحریر فرمودہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی) ابھی ابھی میری نظر سے اخبار ‘’سیاست’‘ کا مضمون ‘’کشمیر کانفرنس کے انعقاد کی تجویز’‘ گزرا ہے- میں نہیں سمجھ سکا کہ یہ مضمون خود عملہ سیاست کی طرف سے ہے یا کسی نامہ نگار کی طرف سے کیونکہ نیچے کسی کا نام نہیں ہے مگر بہرحال مجھے خوشی ہے کہ اہل کشمیر کی توجہ کام کی طرف پھر رہی ہے- مجھے مکرمی خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی کا بھی ایک خط ملا ہے جس میں انہوں نے میری تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے سیالکوٹ کو جلسہ شوریٰ کے لئے پسند فرمایا ہے اور ہر طرح امداد کرنے کا وعدہ کیا ہے- میں نے انہیں جوابا یہی تحریر کیا ہے کہ اب اس تجویز کی اشاعت کے بعد پہلا حق کشمیری کانفرنس کا ہے کہ وہ اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے لئے دعوت نامہ شائع کرے اور مقام اجتماع کا اعلان کرے- لیکن اگر مصلحت کی وجہ سے وہ اس کام کو ہاتھ میں نہ لینا چاہے تو پھر ہم لوگوں میں سے کوئی اس کا محرک ہو سکتا ہے- کشمیری کانفرنس متوجہ ہو اب بھی میرا یہی خیال ہے کہ کشمیری کانفرنس کے سیکرٹریصاحب کو اس کام کے لئے کھڑا ہونا چاہئے- مجھے اچھی طرح معلوم نہیں کہ وہ کون صاحب ہیں- مگر میں امید کرتا ہوں کہ کام کو سہولت سے چلانے کے لئے وہی اس مجلس کے انعقاد کی کوشش کریں گے کیونکہ ہر کام کے لئے بلا ضرورت و مصلحت الگ الگ انجمنوں کا بنانا تفرقہ اور انشقاق پیدا کرتا ہے لیکن اگر کسی وجہ سے وہ اس کام کو کرنا پسند نہ فرماتے ہوں تو میں ان سے درخواست کروں گا کہ وہ اخبار کے ذریعہ سے اس کی اطلاع کر دیں تا کہ کوئی دوسرا انتظام کیا جائے- ‘’سیاست’‘ کے مضمون نگار صاحب نے تحریر فرمایا ہے کہ کشمیر کے نمائندوں کا طلب کرنا ناممکن ہوگا لیکن میرے نزدیک یہ ناممکن نہیں مجھے جو اطلاعات کشمیر سے آ رہی ہیں‘ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر میں سینکڑوں آدمی اس امر کے لئے کھڑے ہو گئے ہیں کہ اپنی جان