انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 91

۹۱ کہ ریاست میں ایک ایسا عنصر اس وقت غالب ہو رہا ہے جو نہایت ہی متعصب ہے اور آریہ راج کے قائم کرنے کے خیالی پلاؤ پکا رہا ہے- یہ عنصر چونکہ مہاراجہ صاحب بہادر کے گردوپیش رہتا ہے اور ریاست کی بدقسمتی سے اس وقت ریاست کے سیاہ و سفید کا مالک بن رہا ہے اس لئے مہاراجہ صاحب بہادر جموں و کشمیر بھی یا تو اس عنصر کے بڑھے ہوئے نفوذ سے خوف کھا کر یا بوجہ ناواقفیت کے ان کی پالیسی کو نہ سمجھتے ہوئے کسی مخالف آواز کے سننے کے لئے تیار نہیں ہیں- ہر ایک شخص اس بات کو جانتا ہے کہ مسٹر ویک فیلڈ چند سال پہلے ریاست میں سب سے بڑی طاقت سمجھے جاتے تھے لیکن یہ امر بھی ہر شخص کو معلوم ہے کہ مسٹر ویک فیلڈ کی اب وہ حالت نہیں ہے- کشمیر میں مسلمانوں کو حقوق دینے کے متعلق جو تجاویز تھیں ان کا جو حشر ہوا‘ اس سے مسٹر ویک فیلڈ کی طاقت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے- پس ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے میرے نزدیک مسٹر ویک فیلڈ کے وعدہ پر اعتبار کرتے ہوئے خواہ ہم ان کی نیت کو کتنا ہی صحیح سمجھیں ہمیں اپنی کوششوں کو ترک نہیں کرنا چاہئے- تمام مسلمانوں کا فرض کشمیر ایک ایسا ملک ہے جسے صنعت و حرفت کا مرکز بنایا جا سکتا ہے- اس ملک کے مسلمانوں کو ترقی دے کر ہم اپنی صنعتی اور حرفتی پستی کو دور کر سکتے ہیں- اس کی آب و ہوا ان شدید تغیرات سے محفوظ ہونے کی وجہ سے جو پنجاب میں پائے جاتے ہیں‘ بارہ مہینے کام کے قابل ہے- ہندوستان کی انڈسٹریل ترقی میں اس کا موسم بہت حد تک روک ہے لیکن کشمیر اس روک سے آزاد ہے اور پھر وہ ایک وسیع میدان ہے جس میں عظیم الشان کارخانوں کے قائم کرنے کی پوری گنجائش ہے- پس تمام مسلمانوں کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ وہ اس ملک کو اس تباہی سے بچانے کی کوشش کریں جس کے سامان بعض لوگ پوری طاقت سے پیدا کر رہے ہیں- اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمان اخبارات جیسے ‘’انقلاب‘‘‘ ‘’مسلم آؤٹ لک‘‘‘ ‘’سیاست’‘ اور ‘’سن رائز’‘ اور اسی طرح نیا اخبار ‘’کشمیری مسلمان’‘ جموں اور کشمیر کے مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت میں بہت کچھ حصہ لے رہے ہیں- لیکن خالی اخبارات کی کوششیں ایسے معاملات کو پوری طرح کامیاب نہیں کر سکتیں- ضرورت ہے کہ ریاست کشمیر کو اور گورنمنٹ کو پوری طرح اس بات کا یقین دلا دیا جائے کہ اس معاملہ میں سارے کے سارے مسلمان خواہ وہ بڑے ہوں یا کہ چھوٹے ہوں کشمیر کے مسلمانوں کی تائید اور حمایت پر ہیں اور ان مظالم کو جو وہاں کے مسلمانوں پر جائز رکھے