انوارالعلوم (جلد 12) — Page 90
۹۰ ایم- اے کو اس بارہ میں انسپکٹر جنرل آف پولیس ریاست جموں و کشمیر سے ملاقات کے لئے بھیجا- گفتگو کے بعد انسپکٹر جنرل آف پولیس نے یہ وعدہ کیا کہ وہ جائز کوشش بے شک کریں لیکن زمینداروں کو اس طرح نہ اکسائیں جس سے شورش پیدا ہو اور اس کے مقابلہ میں وہ بھی یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ان کو جو ناجائز تکلیفیں پولیس کی طرف سے پہنچ رہی ہیں وہ ان کا ازالہ کر دیں گے- اور اسی طرح یہ یقین دلایا کہ جو جائز تکالیف کسانوں کو ہیں ان کا ازالہ کرنے کے لئے ریاست تیار ہے- ہم نے یہ یقین کرتے ہوئے کہ یہ وعدے اپنے اندر کوئی حقیقت رکھتے ہیں ان صاحب کو جو اس وقت کسانوں کی رہنمائی کر رہے تھے یہ یقین دلایا کہ ان کی جائز شکایات پر ریاست غور کرے گی اس لئے وہ کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے شورش اور فتنہ کا خوف ہو- لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ زمینداروں کی جائز شکایات کا دور ہونا تو الگ رہا برابر دو سال سے ان صاحب کے خلاف ریاست کے حکام کوششیں کر رہے ہیں اور باوجود مقامی حکام کے لکھنے کے کہ وہ صاحب نہایت ہی شریف انسان ہیں‘ ان کا نام بدمعاشوں میں درج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے- یہ معاملہ مسٹر ویک فیلڈ WAKEFIELD(۔(MR کے سامنے بھی لایا جا چکا ہے لیکن افسوس ہے وہ بھی اس طرف توجہ نہیں کر سکے- مسٹر ویک فیلڈ کا تازہ وعدہ اس تجربہ کو مدنظر رکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ وہ تازہ خبر جو ‘’انقلاب’‘ مورخہ ۱۲- جون کے پرچہ میں شائع ہوئی ہے کہ مسٹر ویکفیلڈ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کی تکالیف کو مہاراجہ صاحب کے سامنے پیش کریں گے اور ان کے دور کرنے کی کوشش کریں گے اس پر زیادہ اعتبار نہیں کیا جا سکتا- مسٹر ویک فیلڈ کی شخصیت وہ لوگ جن کو مسٹر ویک فیلڈ سے ملنے کا موقع حاصل ہوا ہے یقین دلاتے ہیں کہ وہ اپنی ذات میں نہایت اچھے آدمی ہیں اور جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کی خیر خواہی کرتے ہیں لیکن مسٹر ویک فیلڈ بہرحال ایک ہندو ریاست کے ملازم ہیں اور ریاست بھی وہ جس میں آج سے ساٹھ‘ ستر سال پہلے یہ سکیم بنائی گئی تھی کہ کس طرح مسلمانوں کو شدھ کر کے ہندو بنا لیا جائے- ہم سب کو اس بات کی امید تھی کہ سر ہری سنگھ بہادر مہاراجہ کشمیر کے گدی نشین ہونے پر ریاست کی حالت اچھی ہو جائے گی لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ پہلے سے بدتر ہو گئی ہے- نہ اس لئے کہ مہاراجہ ہری سنگھ بہادر اپنے پیش رو سے زیادہ متعصب ہیں کیونکہ واقعہ اس کے خلاف ہے- بلکہ اس وجہ سے