انوارالعلوم (جلد 12) — Page 69
۶۹ ہندوستان ابھی پوری طرح ان سے مستغنی نہیں ہو سکتا- انگریز اپنے دوستوں کا حلقہ تنگ کر رہے ہیں لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ انگریزی حکومت کو مذکورہ بالا کمزوری اس کے دوستوں کا حلقہ روز بروز تنگ کرتی جاتی ہے اور اگر حکومت نے وقت پر اپنی اصلاح نہ کی تو ایک دن ایسا آئے گا کہ ہر ایک قوم ان سے تاجرانہ یا خود غرضانہ تعلق رکھے گی- انگریز کی دوستی اور اس سے مخلصانہ تعلق رکھنے والا ایک فرد بشر بھی نہ ہو گا اور اس تغیر کی ذمہ واری حکومت پر اور صرف حکومت پر ہو گی- مذبح قادیان کا معاملہ میں اپنے ہی سلسلہ کی مثال لیتا ہوں- قادیان کا مذبح گرایا گیا اور ایسے حالات میں گرایا گیا کہ کوئی انصاف پسند انسان اس کو جائز نہیں قرار دے سکتا- ایک طرف ظلم‘ تعدی‘ بغاوت اور شرارت کا مظاہرہ تھا تو دوسری طرف نرمی‘ عفو‘ امن پسندی اور شرافت کا مظاہرہ تھا- پولیس کی موجودگی میں مذبح گرایا گیا- ایک سب انسپکٹر اور کئی کانسٹیبل وہاں موجود تھے انہوں نے ان حملہ آوروں کو روکا نہیں بلکہ کھڑے دیکھتے رہے اور پھر مقدمہ میں ایک شخص بھی مجرموں میں سے اپنے کیفر کردار کو نہیں پہنچا- دوسری طرف احمدیوں نے نہایت بردباری اور امن پسندی کا ثبوت دیا اور باوجود طاقت کے اس خوف کی وجہ سے ان شریروں کا مقابلہ نہ کیا کہ کہیں وہ امن شکنی کا موجب نہ ہو جائیں اور اسی یقین کی وجہ سے ہاتھ نہ اٹھایا کہ حکومت ان مفسدوں کو خود سزا دے گی لیکن ان کا اعتماد بے محل ثابت ہوا- حکومت نے ایک مفسد کو بھی سزا نہیں دی- میں ایک منٹ کے لئے بھی خیال نہیں کر سکتا کہ علاقہ کے تھانہ دار اور پولیس کی موجودگی میں ایک مجرم کی بھی شناخت صحیح طور پر نہ ہو سکی ہو- پس سب مجرموں کا چھٹ جانا بتاتا ہے کہ یا تو اصل مجرموں کو پکڑا ہی نہ گیا تھا- یا یہ کہ مقدمہ کو جان بوجھ کر اس طرح چلایا گیا تھا کہ وہ لوگ بری ہو جائیں تاکہ دنیا یہ خیال کر لے کہ گورنمنٹ نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے اور سکھ بھی گورنمنٹ سے ناراض نہ ہوں- اس وقت ایک ہی سوال حکام کے سامنے تھا اور وہ یہ تھا کہ سکھوں کو دسمبر ۱۹۲۹ء کی کانگریس کے اجلاس میں شامل ہونے سے ہر قیمت پر روکا جائے لیکن اگر حکومت وفادار رعایا کے حقوق کو تلف کر کے اس قسم کی کارروائی کرے تو اسے کب یہ امید ہو سکتی ہے کہ آئندہ مشکلات کے وقت میں اس کی تائید کی جائے گی-