انوارالعلوم (جلد 12) — Page 70
۷۰ کانگرس کی شورش کے ایام میں کام مگر میں نے پھر بھی کانگرس کی شورش کے وقت میں ایسا کام کیا ہے کہ کوئی انجمن یا فرد اس کی مثال پیش نہیں کر سکتا- اگر میں اس وقت الگ رہتا تو یقیناً ملک میں شورش بہت زیادہ ترقی کر جاتی اور یہ صرف میری ہی راہنمائی تھی جس کے نتیجہ میں دوسری اقوام کو بھی جرات ہوئی اور ان میں سے کئی کانگرس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو گئیں- ہم نیلام ہونے کے لئے تیار نہیں لیکن باوجود اس کے مذبح کے معاملہ میں حکومت ہمارے احساسات کے ساتھ کھیلتی رہی ہے- اس نے جان بوجھ کر اس معاملہ کو اس قدر لمبا کیا ہے کہ کوئی شخص اسے جائز نہیں قرار دے سکتا- وہ ہماری جیبوں سے سکھوں کو عارضی طور پر روکے رکھنے کی قیمت دلوانا چاہتی ہے لیکن ہم نیلام ہونے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہیں- ذمہ وار افسر دو سال سے ہمیں یہ کہتے چلے آتے ہیں کہ مذبح کا فیصلہ ہو گیا ہے بس اب جاری ہوتا ہے کچھ دن آپ لوگ اور صبر کریں- اپنے حقوق چھوڑ کر بھی سکھوں کو خوش رکھیں تاکہ مذبح کے کھولنے میں دقت نہ ہو- یہی آواز ہے جو ڈیڑھ سال سے ہمارے کانوں میں پڑ رہی ہے لیکن ہنوز روز اول والا معاملہ ہے- مذبح ہمارا حق ہے‘ اس حق کے لینے کے لئے زائد قیمت ادا کرنے کے معنی ہی کیا ہوئے- قادیان کی تعزیری چوکی لطف یہ ہے کہ جو تعزیری چوکی بٹھائی گئی ہے علاوہ اس کے کہ اس کا رویہ نہایت قابل اعتراض ہے اس کے آنے پر چوریاں بڑھ گئی ہیں اور لوگ شبہ کرتے ہیں کہ یہ چوریاں خود بعض پولیس کے آدمی اس لئے کروا رہے ہیں تاکہ تعزیری چوکی کی معیاد بڑھائی جا سکے- نیت کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیان میں پچھلی سردیوں میں اس قدر چوریاں ہوئی ہیں کہ اس سے پہلے کئی سال میں بھی اس قدر نہ ہوئی ہوں گی- پس اگر بددیانتی نہیں تو بعض لوکل افسروں کی نالائقی اس سے ضرور ثابت ہوتی ہے- تغزیری چوکی کا خرچ دوسری عجیب بات یہ ہے کہ اس چوکی کا خرچ جو علاقہ پر تقسیم کیا گیا ہے اس میں مسلمانوں پر خاص ظلم کیا گیا ہے حالانکہ قصور سکھوں کا تھا- کمین لوگ جو بچارے نہایت محنت سے مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالتے ہیں ان پر بار بہت زیادہ ڈالا گیا ہے اور سکھ زمینداروں پر بہت کم ڈالا گیا ہے- یہ ظلم برابر جاری ہے اور باوجود