انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 39

۳۹ تحفہ لارڈ ارون ہوں جس قدر کہ وہ ان سے امید کرتا ہے؟ لیکن اگر باوجود ان واقعات کے مسلمان حکومت کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ایسا کرنے پر آمادہ ہیں تو کیا یہ مسلمانوں کے وسعت حوصلہ کی علامت نہیں اور کیا انگلستان کا بھی اس وقت جب کہ وہ ہندوستان کی عنان حکومت ہندوستانیوں کے سپرد کرنے لگا ہے یہ فرض نہیں کہ وہ دیکھے کہ اس تغیر کے نتیجہ میں مسلمان اور بھی تباہ نہ ہو جائیں بلکہ انہیں علمی‘ تمدنی اور مذہبی ترقی کرنے کا موقع حاصل رہے اور یقیناً مسلمانوں کے مطالبات میں اس سے زیادہ کوئی خواہش نہیں کی گئی- اور اگر انگلستان ایسا نہیں کرے گا تو مسلمانوں کو ہمیشہ انگریزوں سے یہ جائز شکایت رہے گی کہ انہوں نے ہندوستان میں آ کر یا اپنا فائدہ کیا یا ہندوؤں کا- مسلمانوں کا فائدہ کرنا تو درکنار ان کی طاقت کو اس نے توڑ کر ہمیشہ کیلئے انہیں نکما کر دیا- کیا آپ سا مذہب سے لگاؤ رکھنے والا انسان یہ پسند کرے گا کہ تاریخ انگلستان کے متعلق ان واقعات کا اظہار کرے جو میں نے اوپر بیان کئے ہیں- پس میں اور تمام جماعت احمدیہ بلکہ ہر ایک مسلمان آپ سے امید کرتا ہے کہ آپ انگلستان پہنچ کر اپنے دوستوں کو خصوصاً اور عام انگلستان کی پبلک کو عموماً اسلامی نقطئہ نگاہ سے واقف کریں گے اور اس خطرناک غلطی میں مبتلا ہونے سے انگلستان کو محفوظ رکھیں گے جس میں اس کے مبتلاء ہو جانے کے زبردست احتمالات پیدا ہو رہے ہیں- اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کی اکثریت کی اچھی رائے کا حاصل کرنا انگلستان کے لئے نہایت ضروری ہے مگر اس سے بہت زیادہ ضروری اس کیلئے اپنی عزت کی حفاظت اور خدا تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے جس کی ناراضگی انسان کو ادبار کے ایسے خطرناک راستہ پر چلا دیتی ہے جس سے واپس ہونا بہت مشکل ہوتا ہے- یورایکسیلنسی! میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اس امر کو پسند کرتے ہیں کہ دوسروں کو تباہ کر کے اپنی قوم کو ترقی دیں- اگر کبھی بھی خدانخواستہ مسلمان ہندوؤں یا کسی اور قوم کے حقوق کے تلف کرنے پر آمادہ ہوئے تو میں اور میری جماعت سب سے پہلے انہیں اس فعل سے باز رکھنے کی کوشش کریں گے اور کسی مخالفت یا نقصان کی پرواہ نہیں کریں گے- لیکن احمدی جماعت اس امر کو بھی کبھی برداشت نہیں کرے گی کہ مسلمانوں کو دوسری قوموں کے رحم پر چھوڑ دیا جائے اور ان کی حکومت کو تباہ کرنے کے بعد ان کی اجتماعی حیثیت کو بھی برباد کر دیا جائے اور ایک دوسری قوم کو ان کے سروں پر بٹھا دیا جائے اور اسلام کو آزادانہ طور پر