انوارالعلوم (جلد 12) — Page 30
۳۰ اردو زبان کی کس طرح خدمت کر سکتے ہیں اسی طرح جدید اصطلاحات کی ضرورتوں کو کلب کے صفحات میں شائع کیا جائے اور بحث کی طرح اس طریق پر نہ ڈالی جائے کہ خالص عربی یا خالص سنسکرت اصطلاحات لے لی جائیں بلکہ تحریک یہ کی جائے کہ وہ خیال جس کے ادا کرنے کی ضرورت پیدا ہوئی ہے اس کے متعلق کلب کے ممبر پہلے یہ بحث کریں کہ اس خیال کا کس اردو لفظ سے تعلق ہے- پھر یہ دیکھا جائے کہ وہ لفظ کس زبان کا ہے اور آیا اس لفظ سے جدید اصطلاح کا بنانا آسان ہوگا- اگر عام رائے اس کی تائید میں ہو تو پھر اس زبان کے ماہروں سے درخواست کی جائے کہ وہ اس کے متعلق اپنا خیال ظاہر کریں- کیونکہ جس زبان کا لفظ ہو اس کے ماہر اس کے صحیح مشتقات پر روشنی ڈال سکتے ہیں- ممکن ہے یہ خیال کیا جائے کہ اردو رسائل کے ادارے تو پہلے ہی بوجھوں تلے دبے پڑے ہیں وہ اتنی پیچیدہ سکیم پر کس طرح عمل کر سکتے ہیں- لیکن اول تو یہ سکیم عمل میں اس قدر پیچیدہ اور توجہ طلب نہ ہوگی جس قدر کاغذ پر نظر آتی ہے- دوسرے اس قسم کے کلب جیسا کہ یورپ کا تجربہ ہے ہمیشہ رسائل و اخبارات کی دلچسپی اور خریداری بڑھانے کا موجب ہوتے ہیں‘ اس لئے جو رسالہ اس کام کو شروع کرے گا وہ میرے نزدیک مالی پہلو سے فائدہ میں رہے گا- تیسرے یہ بھی ضروری نہیں کہ فوراً اس ساری سکیم پر عمل کیا جائے ہو سکتا ہے کہ کلب جاری کر کے صفحات مقرر کئے بغیر اور اس طرح مضامین تقسیم کئے بغیر جس طرح میں نے بیان کیا ہے کام شروع کر دیا جائے- پھر جوں جوں ادارہ اور کلب کے ممبروں کو مشق ہوتی جائے کام اصول کے ماتحت لایا جائے تھوڑی سی ہمت کی ضرورت ہے اور بس- ادبی دنیا کے لئے اور اگر کوئی اور رسالہ اس تحریک پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ ضرورت ہو تو میں اس بحث کو واضح کرنے کے لئے اور اس تحریک سے لوگوں میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے بشرط فرصت اور مضامین بھی لکھ سکتا ہوں- (رسالہ ادبی دنیا مارچ ۱۹۳۱ء صفحہ ۱۸۶ تا ۱۸۸)