انوارالعلوم (جلد 12) — Page 29
۲۹ اردو زبان کی کس طرح خدمت کر سکتے ہیں (۲) لکھنؤ اور اس کے مضافات (۳) پنجاب (۴) رامپور اور اس کے مضافات (۵) بھوپال اور اس کے مضافات (۶) آگرہ اور اس کے مضافات (۷) اعظم گڑھ اور الہ آباد اور اس کے مضافات (۸) بہار (۹) حیدر آباد اس طرح علمی لحاظ سے اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے- ۱- اسلامی یعنی عربی اور فارسی اثر ۲- ہندو یعنی سنسکرت اور ہندی بھاشا اثر جب سوالات رسالہ کے دفتر میں آئیں تو ادارہ انہیں مختلف حصوں میں تقسیم کر دے مثلاً جو سوال کسی لفظ کے استعمال‘ اس کی شکل‘ اس کی تذکیر و تانیث کے متعلق ہوں انہیں ایک جگہ جمع کر کے شائع کرے اور ان کے متعلق مذکورہ بالا حلقوں کے احباب سے درخواست کرے کہ وہ نہ صرف اپنی علمی تحقیق بتائیں بلکہ یہ بھی بتائیں کہ ان کے علاقہ میں وہ لفظ اردو میں استعمال ہوتا ہے یا نہیں‘ اگر ہوتا ہے تو کس شکل میں اور کن کن معنوں میں؟ اس طرح دو فائدے حاصل ہونگے ایک تو اس امر کا اندازہ ہو جائے گا کہ اس خاص لفظ یا محاورہ کے متعلق اردو بولنے والوں کی اکثریت کس طرف جا رہی ہے اور اس سے اردو کی ترقی کی رو کا اندازہ ہو سکے گا- دوسرے علمی تحقیق بھی ہو جائے گی اور پڑھنے والوں کی طبائع فیصلہ کر سکیں گی کہ اس بارہ میں اردو کے حق میں کونسی بات مفید ہے- آیا تحقیق کی پیروی کرنی چاہئے یا غلط العام کی تصدیق کہ یہ دونوں باتیں اپنے اپنے موقع پر زبان کی ترقی کے لئے ضروری ہوتی ہیں- اسی طرح جس لفظ کے متعلق بحث ہو اگر سنسکرت یا ہندی بھاشا اس کا ماخذ ہو تو اس کے علماء کو اور عربی فارسی ماخذ ہو تو اس کے علماء کو اس پروشنی ڈالنے کی طرف توجہ دلائی جائے- اس طرح اور بہت سی تقسیمیں کی جا سکتی ہیں جو اس کلب کو زیادہ دلچسپ بنانے کا باعث ہو سکتی ہیں- کلب کا کام فیصلہ کرنا نہ ہو بلکہ ہر پہلو کو روشنی میں لانا ہو-