انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 28

۲۸ اردو زبان کی کس طرح خدمت کر سکتے ہیں کوئی شخص جواب کی طرف توجہ ہی نہ کرے- اگر صرف رسالہ کے ادارہ نے جواب دیئے تو پھر اول تو اصل مطلب فوت ہو جائے گا- دوم ممکن ہے کہ اس سے وہ اثر پیدا نہ ہو سکے جو اصل مقصود ہے لہذا اس مشکل اور اس قسم کی دوسری مشکلات کے حل کے لئے میں یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ جو رسالہ اس تحریک پر عمل کرنا چاہے اس میں ایک ادبی کلب قائم کر دی جائے- ادارہ کی طرف سے متعدد بار تحریک کر کے رسالہ کے خریداروں کے نام ظاہر کریں جو خریدار مستند ادیب ہیں ان سے اصرار کر کے اپنا نام پیش کرنے کے لئے کہا جائے- ایسے تمام خریداروں کے نام ایک رجسٹر میں جمع کر لئے جائیں اور انہیں ادبی کلب کا ممبر سمجھا جائے چونکہ بالکل ممکن ہے کہ بہت سے ادیب اور علماء جن کی امداد کی ضرورت سمجھی جائے رسالہ کے خریدار نہ ہوں اس لئے ایسے لوگوں کی ایک فہرست تیار کی جائے اور رسالہ کے مستطیع خریداروں کی امداد سے ان کے نام رسالہ مفت ارسال کیا جائے اور ان کا نام اعزازی ممبر کے طور پر کلب کے رجسٹر میں درج کر لیا جائے- تمام ممبروں سے امید کی جائے کہ جب کبھی کوئی سوال (۱) اردو لغت کے متعلق- (۲) نحوی قواعد کے متعلق (۳) بعض علمی خیالات کے ادا کرنے میں زبان کی دقتوں کے متعلق (۴) محاورات کے متعلق- (۵) تذکیر و تانیث اور جمع کے قواعد کے متعلق- (۶) پرانی اصطلاحات کی تشریح یا نئی اصطلاحات کی ضرورت کے متعلق پیدا ہو تو بجائے خود حل کر کے خود ہی اس سے لطف حاصل کرنے کے وہ اس سوال کو رسالہ کے ادبی کلب کے حصہ میں شائع کرائیں- خواہ اپنا حل بھی ساتھ ہی لکھ دیں یا خالی سوال ہی لکھ دیں- ان سے یہ بھی امید کی جائے کہ جب کوئی ایسا سوال شائع ہو تو وہ اس کا جواب دینے کی کوشش کیا کریں- ملک اردو علم و ادب کے لحاظ سے چند حلقوں میں تقسیم کر دیا جائے- مثلاً (۱) دھلی اور اس کے مضافات