انوارالعلوم (جلد 12) — Page 584
۵۸۴ جماعت کی اقتصادی حالت درست نہ ہوگی- مسلمانوں کے بزرگوں کا طریق عمل کسی شخص کو کوئی کام کرنے میں کسی قسم کی عار نہیں ہونی چاہئے مسلمانوں میں یہ کتنی خوبی کی بات تھی کہ ان کے بڑے بڑے بزرگوں کے نام کے ساتھ لکھا ہوتا ہے رسی بٹنے والا یا ٹوکریاں بنانے والا‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے علماء اور امام عملاً کام کرتے تھے اور کام کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے- میں نے ایک دفعہ تجویز کی تھی کہ ایک کلب بنائی جائے جس کا کوئی ممبر راج کا‘ کوئی معمار کا‘ کوئی لوہار کا کام کرے تا کہ اس قسم کے کام کرنے میں جو عار سمجھتی جاتی ہے وہ لوگوں کے دلوں سے نکل جائے اب بھی میرا خیال ہے کہ اس قسم کی تجویز کی جائے- دوسروں کی امداد کرو پھر جہاں میں یہ کہتا ہوں کہ ہماری جماعت کا ہر ایک فرد کام کرے- جو بے کار ہے وہ اپنے لئے کام تلاش کرے اگر کوئی اعلیٰ درجہ کا کام نہیں ملتا تو ادنیٰ سے ادنیٰ کام کرنے میں بھی عار نہ سمجھے اگر دوست ایسا کریں تو دیکھیں گے کہ جماعت میں اتنی قوت اور طاقت پیدا ہو جائے گی کہ کوئی مقابلہ نہ کر سکے گا وہاں دوسری طرف میں یہ بھی کہتا ہوں کہ ہماری جماعت کے جو لوگ ملازم ہیں‘ انہیں چاہئے کہ دوسروں کو ملازم کرائیں‘ جو تاجر ہیں انہیں چاہئے دوسروں کو تجارت کرنا سکھائیں‘ جو پیشہ ور ہیں انہیں چاہئے دوسروں کو اپنے پیشہ کا کام سکھائیں- یہ صرف دنیوی طور پر عمدہ اور مفید کام نہ ہوگا بلکہ دینی خدمت بھی ہوگی اور بہت بڑے ثواب کا موجب ہوگا- ایک طریق ایک طریق کام چلانے کا وہ بھی ہے جو بوہروں میں رائج ہے ان میں سے اگر کوئی بے کار ہو جائے‘ تجارت نہ چلتی ہو اور اس کے پاس سرمایہ نہ ہو‘ تو بوہرے اس طرح کرتے ہیں کہ پنچائت کر کے فیصلہ کر دیتے ہیں فلاں چیز فلاں کے سوا اور کوئی نہ بیچے- دوسرے دکاندار وہ مال اسے دے دیں گے- مثلاً دیا سلائی کی ڈبیاں ہیں جب یہ فیصلہ کر دیا جائے کہ فلاں کے سوا اور کوئی دیا سلائی کی ڈبیاں نہ بیچے تو جتنے بوہروں کے پاس یہ مال ہوگا وہ سب اس کو دے دیں گے اس طرح اس کا کام چل جاتا ہے مگر اس کیلئے بڑی جماعت کی ضرورت ہے- جہاں چھوٹی چھوٹی جماعتیں ہوں وہ اس طرح کر سکتی ہیں کہ ایک دکان کھلوا دی جائے اور یہ عہد کر لیا جائے کہ تکلیف اُٹھا کر بھی سب کے سب اسی سے سودا خریدیں گے-