انوارالعلوم (جلد 12) — Page 585
۵۸۵ مسلمانوں میں تجارت کبھی ترقی نہ کر سکے گی جب تک وہ اس قسم کی پابندی اپنے اوپر عائد نہ کریں گے- ہماری جماعت اگر اس طریق کو چلائے تو بیسیوں لوگ تاجر بن سکتے ہیں- قومی نقطہ نگاہ سے اقتصادی حالت پھر قومی نقطہ نگاہ سے بھی اپنی اقتصادی حالت کا اندازہ کرنا چاہئے اس کے متعلق پہلی نصیحت میں نے یہ کی تھی کہ جہاں تک ہو سکے مسلمان اپنی ضروریات کی چیزیں مسلمان دوکانداروں سے خریدیں اور کھانے پینے کی چیزیں جو ہندو کسی مسلمان سے نہیں خریدتے وہ تو قطعاً مسلمانوں کو ہندوؤں سے نہ خریدنی چاہئیں- یہ اول درجہ کی بے حیائی ہے کہ وہ چیزیں جو مسلمان کا ہاتھ لگ جانے کی وجہ سے ہندوؤں کے نزدیک ناپاک ہو جاتی ہیں‘ وہ مسلمان ہندوؤں کے ہاتھ کی بنائی ہوئی خرید کر استعمال کریں- کئی دوست اس تحریک پر عمل کرتے ہیں مگر کئی نہیں بھی کرتے اور دوسرے مسلمان تو بالکل نہیں کرتے- ہماری جماعت کے جو دوست اس پر عمل نہیں کرتے وہ خود عمل کریں اور دوسرے مسلمانوں کو عمل کرنے کی تحریک کریں اور جہاں جہاں مسلمانوں کی دکانیں نہیں ہیں‘ وہاں احمدیوں کی دوکانیں کھلوا دیں اور ان کی مدد اس طرح کریں کہ ضروریات کی چیزیں انہی سے خریدیں- ہوزری کمپنی کی تحریک دوسرا طریق یہ ہے کہ مشترک سرمایہ سے کام کیا جائے وہ کام جو افراد نہیں کر سکتے‘ قوم کر سکتی ہے- اسی سلسلہ میں میں نے مجلس شوریٰ میں یہ تجویز منظور کی تھی کہ جرابیں وغیرہ بننے کیلئے کمپنی بنائے جائے اس کے کچھ حصے قادیان اور باہر کے لوگوں نے خریدے ہیں- لیکن کام شروع کرنے کیلئے کم از کم بائیس ہزار روپیہ ضروری ہے- افسوس کہ جماعت نے اس طرف پوری توجہ نہیں کی- حالانکہ مجلس مشاورت میں شریک ہونے والے دوست یہ عہد کر کے گئے تھے کہ ہم اس کمپنی کی بنی ہوئی چیزیں خریدیں گے اور میں نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر اس کمپنی کی جرابیں پورے سائز کی نہ ہونگی تو خواہ وہ کتنی ہی خراب ہوں ہم وہی پہنیں گے اور ان پر اعلیٰ درجہ کی جرابوں کو ترجیح نہ دیں گے- تمام جماعتوں کو چاہئے کہ اس ہوزری فیکٹری کے حصے خریدیں- اس رنگ میں عمدگی سے تجارتی کام چلایا جا سکتا ہے- ہوزری کے کام کو اس لئے چنا گیا ہے کہ یہ تھوڑے سرمایہ سے چلایا جا سکتا ہے جب یہ تجویز کی گئی تھی‘ اس وقت بارہ ہزار سرمایہ کی ضرورت تھی لیکن اب بائیس ہزار کی ہے- اور اگر اب بھی کام نہ چلایا گیا تو ممکن ہے پھر