انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 548

۵۴۸ افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۳۲ء پھر وعدے کئے ہیں اور ان وعدوں میں یلحقوابھم کو بھی شامل کر لیا ہے- ہم یہاں اسی یقین اور وثوق سے جمع ہوتے ہیں اور اسی یقین سے جمع ہونا چاہئے آپ لوگوں میں سے کوئی فرد یہ خیال نہ کرے کہ یہاں آنا معمولی بات ہے اور یہ مجلس دنیا کی مجالس کی طرح معمولی مجلس ہے- کیونکہ یہ خیال کرنے والا شخص خدا تعالیٰ کے وعدوں پر ایمان نہیں رکھتا اور وہ مومن نہیں ہو سکتا جو یہ یقین نہ رکھے کہ ہم یہاں نئی زمین اور نیا آسمان بنانے کیلئے جمع ہوتے ہیں- یاد رکھو تم وہ بیج ہو جس سے ایسا عظیم الشان درخت اگنے والا ہے- جس کے سایہ میں تمام دنیا آرام پائے گی- تمہارے قلوب وہ زمین ہے جس سے خدا تعالیٰ کی مغفرت کا پودا پھوٹنے والا ہے- اگر دنیا یہ بات نہیں دیکھ سکتی تو وہ اندھی ہے- اور اگر خدا کے وعدوں کو نہیں سنتی تو بہری ہے- مگر تم نے خدا تعالیٰ کے وعدوں کو سنا اور ان کو پورے ہوتے دیکھا- تم میں سے ہر فرد جس نے خدا کے مسیح کے ہاتھ پر بیعت کی- خواہ براہ راست کی‘ خواہ خلفاء کے ذریعہ‘ وہ آدم ہے جس سے آئندہ نئی نسلیں چلیں گی- تم خدا کی وہ خاص زمین ہو جس پر اس کی رحمت کی بارش برسے گی- تمہیں خدا تعالیٰ وہ درخت بنائے گا جس کے ساتھ ہر سعید بیٹھے گا اور جو تم کو چھوڑے گا وہ نہ دنیا میں آرام پائے گا نہ آخرت میں- پس تمہارا کام معمولی کام نہیں- تم اللہ تعالیٰ پر توکل رکھ کر اور دعا کر کے شروع کرو- اس چھوٹے سے اجتماع کو اس اجتماع کو جسے بارش کی چند بوندوں کے سامنے سر چھپانے کی جگہ نہیں- (جس وقت حضور یہ فرما رہے تھے- اس وقت مطلع اس طرح ابر آلود تھا کہ بارش برسنے کو تھی- لیکن جلسہ گاہ کھلے میدان میں بالکل غیر مسقف تھی( خدا تعالیٰ نے دنیا کی نجات کا موجب بنایا ہے- نادان ہنستے ہیں کہ ہم نے حج کی نقل لگائی ہے- مگر خدا جسے چاہتا ہے بلند کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے‘ گراتا ہے- عزت اور ذلت اسی کے ہاتھ میں ہے- دنیا کی ہنسی ہمیں بے دل نہیں کر سکتی- اور دنیا کا تمسخر ہماری ہمتوں کو پست نہیں کر سکتا- اللہ تعالیٰ نے ہمیں چنا ہے اور جب تک ہم اپنے آپ کو اس کے فضل کے مستحق رکھیں گے اس کا فضل ہم پر نازل ہوتا رہے گا- اسی کے فضل سے وہ بنیاد جو اس وقت بہت کمزور نظر آتی ہے- اس پر عظیم الشان عمارت تعمیر ہوگی- ایسی عظیم الشان کو ساری دنیا اس کے اندر آ جائے گی اور جو لوگ باہر رہیں گے ان کی کوئی حیثیت نہ ہوگی- جیسا کہ خدا تعالیٰ سے خبر پا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کی حیثیت چوہڑے چماروں کی سی ہوگی-