انوارالعلوم (جلد 12) — Page 545
۵۴۵ افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۳۲ء بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۳۲ء (فرمودہ ۲۶ دسمبر ۱۹۳۲ء) تشہد‘تعوّذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا-: برادران! السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ بہترین افتتاحیہ تو وہی ہے جس سے خدا تعالیٰ نے اپنے کلام کو شروع کیا اور جس کا نام خود اس نے سورہ فاتحہ رکھا- اس سے بہتر کوئی افتتاحی کلام نہیں ہو سکتا اور اس سے بہتر کوئی جامع دعا نہیں ہو سکتی- اس کے مطالب اتنے وسیع اور اس کے اندر مخفی اسرار اتنے لاتعداد ہیں کہ انسانی ذہن ان کا اندازہ ہی نہیں کر سکتا- وہ ابدلا باد تک کی ترقیات جو بہتر سے بہتر انسان کیلئے نبیوں کیلئے ہی نہیں‘ بلکہ نبیوں کے سردار کیلئے مقرر رہیں‘ وہ بھی اس سورہ فاتحہ کے اندر آ جاتی ہیں- کیونکہ انسانی سلوک کے انتہائی منازل اور ان کے متعلق ضروری ہدایات ساری کی ساری ان مختصر سی سات آیات میں اللہ تعالیٰ نے رکھ دی ہیں- پس سورہ فاتحہ کو میں اس جلسہ کے افتتاح کیلئے پڑھتا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ افتتاحیہ جو اس کی طرف سے عطا ہوا ہے‘ اس کے اندر جو ضروری ہدایات ہمارے متعلق ہیں‘ ان کو پورا کرنے کی ہمیں توفیق دے اور ان کے جواب میں جو اہم وعدے ہیں- اس کا فضل محض رحمت سے وہ وعدے پورے کر دے ہم لوگ جس بے سروسامانی کے ساتھ آج کل اس جگہ پر جمع ہوتے ہیں‘ دنیا داروں کی نگاہوں میں وہ ترقی کی علامت نہیں- ہمارے کمروں اور جلسہ گاہ میں بچھی ہوئی کسیر کو دیکھ کر‘ ہمارے کھلے ہوئے سٹیج کو دیکھ کر‘ ہمارے ان شہتیروں کو دیکھ کر جن کا نام ہم بنچ رکھ لیتے ہیں- وہ ہم پر مسکراتے اور کہتے ہیں‘ یہ ہے وہ جماعت جو دنیا کو خدا کیلئے فتح کرنے کیلئے کھڑی ہوئی ہے- مگر ہماری حالت کے متعلق ان کی بنسی ویسی ہے جیسی عبدالرحمن بن ا بی لیلیٰ کے ساتھ