انوارالعلوم (جلد 12) — Page 502
۵۰۲ ایک تو سلسلہ کے کاموں کی ابتداء کی طرف شارہ کرتا ہے اور دوسرا انتہاء کی طرف جب مجھ سے دریافت کیا گیا کہ میں کوئی ایسا الہام یا آیت بتاؤں جسے اس مکان کے دروازہ پر لکھایا جائے تو معاً میرے دل میں یہ الہام ڈالے گئے- پہلا الہام یہ ہے ینصرک رجال نوحی الیھم من السماء۱؎ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو فرماتا ہے- تیری مدد ایسے آدمی کریں گے جن کی طرف ہم آسمان سے وحی کریں گے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام اس وقت ہوا جب کہ آپ اپنے خاندان میں بھی عضو معطل سمجھے جاتے تھے اور دنیا کے لحاظ سے بھی آپ کو کوئی مقبولیت حاصل نہ تھی اس وقت خدا تعالیٰ نے یہ الہام نازل کیا جس میں بہت بڑے بڑے مطالب ہیں- اول یہ کہ جب فرمایا- ینصرک رجال- تو اس میں یہ بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عظیم الشان کام کرنے کے لئے مقرر کئے گئے ہیں- کیونکہ معمولی کام جسے کوئی اکیلا کر سکے اس کے سر انجام دینے کیلئے دوسرے آدمیوں کی ضرورت نہیں ہوتی- تو اس وقت جب کہ اپنے گاؤں کے لوگ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نہ جانتے تھے خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ آپ کو ایسے کام پر مامور کیا جائے گا جسے اکیلا نہ کر سکے گا- بلکہ اس کے کرنے کیلئے بہت سے مددگاروں کی ضرورت ہو گی- یہ بات سلسلہ کی عظمت اور وسعت پر دلالت کرتی ہے- دوسرا مفہوم ینصرک میں ک کی ضمیر میں یہ بتایا کہ قومی کارکن عام طور پر ایسے ملتے ہیں جو خود غرضی سے کام کرتے ہیں- ایک شخص جو فوج میں بھرتی ہوتا ہے بظاہر ملک کی خدمت کیلئے بھرتی ہوتا ہے مگر اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ سپاہی سے لیس(LANCE)لیس سے نائیک‘ (NIKE) نائیک سے حوالدار‘ حوالدار سے جمعدار اور جمعدار سے صوبیدار بن جائے- اللہ تعالیٰ نے اس الہام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ ولسلام کو یہ فرمایا کہ ہم تمہاری امداد کیلئے ایسے لوگوں کو کھڑا کر دیں گے جو اپنی ذات کیلئے کسی قسم کی بڑائی نہیں چاہیں گے بلکہ اس کام کو کریں گے جس پر تجھے مقرر کیا گیا ہے- گویا اس میں پیشگوئی ہے کہ ایسے لوگ اس لئے پیدا کئے جائیں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی لگائی ہوئی داغ بیل کو قائم کریں- پھر فرماتا ہے- ینصرک رجال یہاں رجال کا لفظ رجولیت کی طرف شارہ کرنے کیلئے رکھا گیا ہے-