انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 501

۵۰۱ بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الكريم جدید عمارت میں دفاتر صدرانجمن کے افتتاح کی تقریب تشہّد ، تعوّذ اور سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اس سنجیدہ تقریب کے لحاظ سے گو اس امر سے ابتداء جس سے کہ میں کرنا چاہتا ہوں ایسی مناسب نہ ہو لیکن ایڈ ریس کے شروع میں ایک ایسا فقرہ لکھا گیا ہے جس کی وجہ سے میں مجبور ہوں کہ اس کا ذکر کروں۔ایڈریس کے شروع میں ایک فقرہ لکھا گیا ہے جو گورسمی ہے اور بہت سی جگہوں میں صحیح بھی ہوتا ہے مگر اس موقع پر غلط ہے اور وہ یہ فقرہ ہے کہ میں نے باوجو و اپنی بہت سی مصروفیتوں کے اس دعوت میں شرکت اختیار کی ہے۔چونکہ سلسلہ کے نظام کے لحاظ سے تمام کاموں کی بنیاد خلیفہ ہے اس لئے یہ کہنا کہ میں اپنی مصروفیتوں کے باوجود یہاں آگیا درست نہیں ہے اتفاقًا آج صبح ہمارے گھر میں میاں بگّا کاذ کر ہو رہا تھا۔میری ایک بیوی جو بعد میں آئی ہیں ان سے میں ذکر کر رہا تھا کہ یہاں ایک شخص میاں بگا ہوتا تھا جو بہت سادہ تھا اور بعض لوگ اسے دھوکا دے کر ہنسی کی باتیں کرا لیتے تھے۔ایک دفعہ اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا کسی نے اسے کہا اس موقع پر لوگوں سے مٹھائی کھاؤ۔ان کا فرض ہے کہ تمہیں مٹھائی کھلا ئیں۔اس پر اسے آمادہ کر کے اس کی طرف سے اشتہار لکھ دیا گیا کہ آپ لوگوں کی مہربانی سے میرے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے اب آپ کا فرض ہے کہ مجھے مٹھائی کھلائیں۔اصل بات یہ کہ میرے کام اور میری مصروفیتیں سلسلہ ہی کیلئے ہیں اور یہ میرا فرض ہے کے سلسلہ کے کام عمدہ طور پر ہوتے دیکھوں۔اس لحاظ سے اگر میں سلسلہ کی کسی تقریب میں شریک ہوتا ہوں تو اپنی مصروفیتوں کو ترک نہیں کرتا بلکہ وہ بھی میری مصروفیتوں کا جزو ہے۔میں نے اس مکان کے دروازہ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے دو الہام لکھنے کا مشورہ دیا تھا۔اس وقت انہی کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔یہ الہام ایسے ہیں کہ ان میں سے