انوارالعلوم (جلد 12) — Page 495
۴۹۵ ندائے ایمان (نمبر۳) علیہ السلام کی دشمنی کے سبب سے ہے- جس طرح کسی نے کہا ہے کہ لا بحب علی بل ببغض معاویہ علی کی محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ معاویہ کے بغض کی وجہ سے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے- وہی حال اس وقت مسلمانوں کا ہو رہا ہے کہ محض مسیح موعود علیہ السلام کی دشمنی کی وجہ سے وہ اسلام کی ایک بہت بڑی خوبی کو مٹا رہے ہیں- اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ احمدیت کی ترقی کو روک دیں گے اور یہ نہیں خیال کرتے کہ اس طرح وہ اسلام کی سب سے بڑی خوبی کو مٹا رہے ہیں اور اسلام کو کفر کے سامنے شرمندہ کر رہے ہیں- سورہ جمعہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ھوالذی بعث فی الامین رسولا منھم یتلوا علیھم ایتہ ویزکیھم و یعلمھم الکتب والحکمہ وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین- واخرین منھم لما یلحقوابھم وھو العزیز الحکیم- ۵؎ وہ خدا ہی ہے جس نے امیوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے تا کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ کر سنائے اور انہیں پاک کرے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھائے گو اس سے پہلے یہ لوگ کھلی کھلی گمراہی میں مبتلا تھے- اور اسی طرح یہ رسول ایک ایسی ہی امی قوم کو جو ابھی ظاہر نہیں ہوئی یہی باتیں سکھائے گا اور اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے- اس آیت سے ظاہر ہے کہ رسول کریم ﷺ کی دو بعثتیں مقدر ہیں- ایک ظاہری اور ایک باطنی یا ایک حقیقی اور ایک ظلی- اور دونوں بعثتوں میں کام ایک ہی ہے- یعنی اللہ تعالیٰ کے تازہ نشانات لوگوں کو سنا کر اور ظاہری اور باطنی شریعت کی تعلیم دے کر لوگوں کو پاک کرنا- اب مسلمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دشمنی میں گو ظاہری بعثت کے تو قائل ہیں لیکن باطنی کا انکار کر رہے ہیں- اور اس آیت کے صریح مفہوم کو جھٹلا رہے ہیں- اور اسی طرح اور بہت سی آیتوں کو جن کے ذکر کی اس جگہ گنجائش نہیں- اور صدہا حدیثوں کو اور ہزارہاکشوف کو جو تیرہ سو سال میں مسلمان اولیاء آمد مسیح کے متعلق دیکھتے رہے ہیں- یہ منکر ایک آیت کے مفہوم کی تاویل کر لیں گے ایک حدیث کو بگاڑ لیں گے لیکن وہ متعدد آیات اور صدہا حدیثوں اور ہزار ہا کشوف کو نہیں چھپا سکتے- مسیح کے زندہ آسمان پر جانے کے متعلق ایک بھی کشف کسی مسلمہ بزرگ کی پیش نہیں جا سکتی لیکن اس کی آمد کے متعلق قریباً ہر ولی نے کچھ نہ کچھ خبر دی ہے- پس مسیح کی آمد کا انکار درحقیقت قرآن اور حدیث اور سب بزرگوں کا انکار ہے اور اس قسم کے انکار کے بعد اسلام کا باقی ہی کیا رہ جاتا ہے-