انوارالعلوم (جلد 12) — Page 496
۴۹۶ ندائے ایمان (نمبر۳) میں ان تمام مسلمانوں سے جو اسلام کا درد رکھتے ہیں اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس خطرناک فتنہ کی حقیقت کو سمجھیں اور اس کا مقابلہ کریں- اگر وہ بانی سلسلہ کی صداقت کو ابھی نہیں سمجھے تو نہ سہی وہ خدا تعالیٰ کے فضل کی گھڑی کا انتظار کریں لیکن آپ کی دشمنی میں جو اسلام کو زندگی سے اور رسول کریم ﷺ کو اجرائے فیض سے محروم کیا جا رہا ہے وہ کم سے کم اس سے تو بچیں اور دوسروں کو بچائیں- مسیح موعود کی آمد کے منکر لوگوں کو یوں دھوکا دیتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ چونکہ کامل ہیں آپ کے بعد کسی شخص کی ضرورت نہیں لیکن یہ نادان نہیں سمجھتے کہ کیا خدا تعالیٰ کامل نہیں- کیا خدا تعالیٰ نے اس وجہ سے کہ اس کا نور بندوں کی نگہ سے پوشیدہ ہو گیا رسول کریم ﷺ کو نہیں بھیجا- پھر جب خدا تعالیٰ کے نور کو ظاہر کرنے کے لئے رسول کریم ﷺ کے ظہور کی ضرورت ہوئی تو کیوں رسول کریم ﷺ کے نور کے ظہور کے لئے آپ کے کسی فیض یافتہ کی ضرورت نہیں ہو سکتی- یہ لوگ یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ مسلمان خراب ہو گئے ہیں لیکن یہ نہیں تسلیم کرتے کہ ان کے علاج کے لئے خدا تعالیٰ کوئی تدبیر کرے گا- ان کے نزدیک امت محمدیہ کے بگڑنے سے تو رسول کریم ﷺ کے کمال میں فرق نہیں آتا لیکن اس بگاڑ کی درستی کا سامان کرنے سے آپ کے کمال میں نقص آ جاتا ہے- شیطان کی ذریت جاری رہے تو آپ کی ہتک نہیں ہوتی لیکن آپ کے روحانی فرزند پیدا ہوں تو آپ کی ہتک ہوتی ہے- اگر غور کریں تو اس خیال کے لوگ دانستہ یا نادانستہ ابوجہل کی نقل کرتے ہیں- جس نے کہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ ابتر ہیں- حالانکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان شانئک ھوالابتر ۶؎تیرے دشمن ہی بے اولاد ثابت ہوں گے تیری اولاد تو جاری رہے گی- گویا جب کبھی کوئی شیطانی تحریک جاری ہوگی رسول کریم ﷺ کی روحانی اولاد میں سے کوئی شخص کھڑا ہو کر اسے تباہ کر دے گا- غرض یہ تحریک جو اس وقت مسلمانوں میں مسیح کی آمد کا انکار کرنے کے متعلق ہو رہی ہے ایک شیطانی تحریک ہے اور دجالی بھی کیونکہ دجال کا کام ہے کہ مسیح کا مقابلہ کرے- اور اس سے بڑھ کر اور کیا مقابلہ ہو گا کہ سرے سے اس کی آمد کا ہی لوگوں کو منکر بنا دیا جائے- اور گوبظاہر اس تحریک کو اسلام کی دوستی کا جامہ پہنایا جا رہا ہے لیکن درپردہ یہ اسلام کی دشمنی ہے- اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مسلمان یا تو یہ سمجھنے لگیں گے کہ اسلام خدا کا پیارا مذہب نہیں کہ اس کی خرابی کی اسے پرواہ نہیں اور یا