انوارالعلوم (جلد 12) — Page 448
۴۴۸ جائیں اور ایک بے فائدہ فریب میں شامل ہوں- پس ایسے مخلص لوگوں پر یہ اعتراض کر کے ان لوگوں نے ظلم اور جھوٹ سے کام لیا ہے- یہ ناممکن ہے کہ ایسے لوگ ایسا جھوٹ بنا سکیں- دوسرا جواب یہ دیا ہے کہ جن کو تم پرانے قصے سمجھتے ہو وہ قصے نہیں بلکہ آئندہ کے متعلق خبریں اور پیشگوئیاں ہیں- چنانچہ فرماتا ہے- قل انزلہ الذی یعلم السر فی السموت والارض-۴۱؎ تو کہہ دے کہ یہ خدا کا کام ہے جو آسمانوں اور زمین کے رازوں سے واقف ہے- کوئی انسان ایسا کلام نہیں بنا سکتا- یہ تو غیب کی باتیں ہیں اور غیب خدا ہی جانتا ہے- اب ان جوابوں کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور مضبوط ہیں- اور وہیری کا خیال کس قدر بیمعنی ہے- اگر یہاں بھی وہی اعتراض سورہ نحل والا ہوتا تو اس کا وہی جواب کیوں نہ دیا جاتا جو وہاں دیا گیا ہے- آخر کیا وجہ تھی کہ اگر یہی سوال سورہ نحل میں تھا تو اس کا جواب بقول وہیری کے بیہودہ دیا جاتا- ایک شخص جو صحیح جواب جانتا ہے اور وہ جواب دے بھی چکا ہے اسے وہ جواب چھوڑ کر اور جواب دینے کی کیا ضرورت تھی- پس یہ جواب لغو نہیں بلکہ معترضین کی اپنی سمجھ ناقص ہے- اصل بات یہ ہے کہ سورہ نحل میں یہ سوال ہی نہیں کہ کوئی اسے مضمون بنا دیتا ہے- بلکہ یہ ذکر ہے کہ نادان لوگ ایک ایسے شخص کی نسبت یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ محمد رسول اللہ کو سکھاتا ہے جو خود عجمی تھا- یعنی اپنا مفہوم اچھی طرح بیان نہیں کر سکتا تھا- صرف تھوڑی سی عربی جانتا تھا- (عجمی کے یہ بھی معنی ہیں کہ جو اپنا مفہوم اچھی طرح ادا نہ کر سکے چنانچہ لغت میں یہ معنی بھی لکھے ہیں)- اس کا جواب اللہ تعالیٰ یہ دیتا ہے کہ دوسرے کا قول انسان دو طرح نقل کر سکتا ہے- ایک تو اس طرح کہ اس کا مطلب سمجھ کر اپنے الفاظ میں ادا کر دے- اور دوسرا طریق یہ ہے کہ اس کے الفاظ رٹ کر ادا کر دے- جیسے طوطا میاں مٹھو کہتا ہے- نقل انہی دو طریق سے ہو سکتی ہے- اللہ تعالیٰ فرماتا ہے- تم جانتے ہو کہ جس شخص کی طرف تم یہ بات منسوب کرتے ہو- وہ اپنا مطلب عربی زبان میں پوری طرح ادا نہیں کر سکتا- پس جب وہ مطلب ہی بیان نہیں کر سکتا تو وہ رسول کریم ﷺ کو مضامین کس طرح سمجھاتا ہے کہ وہ عربی میں اس کو بیان کر دیتے ہیں- یہ جواب ہے آدھے حصے کا- دوسری صورت یہ ہو سکتی تھی کہ اس کے قول کو نقل کیا جاتا- مگر یہ کس طرح ہو سکتا تھا- وہ تو عبرانی میں کہتا تھا اور اس کی بات اگر دہرائی جاتی تو عبرانی میں ہوتی- مگر قرآن تو عبرانی یا یونانی میں