انوارالعلوم (جلد 12) — Page 446
۴۴۶ کا نام لئے بغیر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایک جماعت رسول کریم ﷺ کو سکھاتی ہے- اور رات دن آپ کے پاس رہتی ہے اور آپ بعض دوسرے لوگوں سے اس جماعت کے بتائے ہوئے واقعات کو لکھوا لیتے ہیں- یہ فرق نمایاں ہے- ایک میں ایک خاص شخص کا ذکر ہے اور دوسری میں غیر معین جماعت کا ذکر ہے- ایک میں صرف سیکھنے کا ذکر ہے اور دوسری میں بعض لوگوں سے لکھوانے کا بھی ذکر ہے- ایک میں محض تعلیم کا ذکر ہے اور دوسری میں پہلوں کے واقعات اور خیالات کے نقل کرنے کا ذکر ہے اور پھر سب سے بڑھ کر یہ دونوں جگہ جواب الگ الگ دیا گیا ہے- یہ فرق اتنے نمایاں ہیں کہ ہر شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے- اصل بات یہ ہے کہ جب رسول کریم ﷺ نے دعویٰ کیا- تو شروع میں ہی بعض غلام آپ پر ایمان لے آئے تھے- وہ پہلے بت پرست یا عیسائی یا یہودی تھے- انہیں جب صبح و شام فرصت ملتی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر پہنچ جاتے اور دوسرے صحابہؓ کے ساتھ دین سیکھتے- اور نمازیں پڑھتے- حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے واقع سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک مکان پر یہ اجتماع ہوتا تھا- حضرت عمر رضی اللہ عنہ ابھی ایمان نہ لائے تھے کہ ایک دن اپنے گھر سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ کرنے کے ارادہ سے نکلے- کسی نے پوچھا کہ کیا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا محمد جو صابی ہو گیا ہے اس کی خبر لینے جا رہا ہوں- اس نے کہا پہلے اپنے گھر کی تو خبر لو- انہوں نے کہا- کیا ہوگیا ہے؟ اس نے بتایا کہ تمہاری بہن اور بہنوئی دونوں مسلمان ہو گئے ہیں- یہ سن کر وہ اپنی بہن کے گھر گئے- اور جا کر دستک دی- اس وقت ایک صحابیؓ ان کو قرآن پڑھا رہے تھے- جب انہیں معلوم ہوا کہ عمرؓ ہیں تو صحابیؓ کو چھپا دیا گیا اور بہن اور بہنوئی سامنے ہوئے- انہوں نے پوچھا کہ کس طرح آئے ہو- عمرؓ نے کہا- بتاؤ تم کیا کر رہے تھے- میں نے سنا ہے تم بھی صابی ہو گئے ہو- انہوں نے کہا- یہ غلط ہے- ہم تو صابی نہیں ہوئے- عمرؓ نے کہا میں نے تو خود تمہاری آواز سنی ہے- تم کچھ پڑھ رہے تھے- اور بہنوئی پر حملہ کر دیا- یہ دیکھ کر بہن آگے آگئی- اور ضرب اس کے سر پر پڑی جس سے اس کا سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا- اس پر انہوں نے بڑے جوش سے کہا- ہم مسلمان ہو گئے ہیں- اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے ہیں- تم جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر لو- جب حضرت عمرؓنے یہ حالت دیکھی تو چونکہ وہ ایک بہادر انسان تھے- اور ان کا وار ایک عورت پر پڑا جو ان کی