انوارالعلوم (جلد 12) — Page 429
۴۲۹ زندگی کے متعلق رسول کریم ﷺ کا اعلان ہے اور کفار کے مقابلہ میں اعلان ہے جس کا وہ انکار نہیں کر سکتے تھے- رسول کریم ﷺ کی اتباع میں خدا تعالیٰ کا قُرب نبوت کی زندگی کے متعلق ہم قرآن کریم میں لکھا ہوا دیکھتے ہیں کہ لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة ۱۵؎یہ رسول اس بات کا اعلیٰ نمونہ ہے کہ قرآن نے اس کی زندگی پر کیا اثر کیا- اور یہ کسی ایک قوم یا ایک ملک کے لئے نہیں بلکہ ساری دنیا کیلئے نمونہ ہے- جس کی انہیں پیروی کرنی چاہئے- ممکن ہے کوئی کہے کہ باقی انبیاء بھی ایسے ہی ہونگے- اس لئے قرآن کی ایک اور آیت میں پیش کرتا ہوں- اللہ تعالیٰ فرماتا ہے- قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفر لکم ذنوبکم واللہ غفوررحیم- ۱۶؎یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ان سے کہہ دے (یہ الفاظ بھی رسول کریم ﷺ کی کتنی شان بلند کا اظہار کرتے ہیں- خدا تعالیٰ اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ رسول کریم ﷺ کے منہ سے کہلواتا ہے تا کہ دنیا کیلئے ایک چیلنج ہو- گویا اللہ تعالیٰ نے دنیا کو ایک چیلنج دیا- اور کہا- ان سے کہو( اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو- اور تمہارے دل میں تڑپ ہے کہ اس کے محبوب بن جاؤ تو آؤ میں تمہیں ایسا گر بتاؤں کہ تم عاشق ہو کر معشوق بن جاؤ اور وہ یہ ہے کہ فاتبعونی جس طرح میں کام کرتا ہوں تم بھی کرو- یہاں اطیعونی نہیں فرمایا بلکہ فاتبعونی فرمایا ہے- یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے محبوب بننا چاہتے ہو تو جیسے محمد رسول اللہ ﷺ عمل کر رہے ہیں ویسے ہی تم بھی کرو- یہ نہیں فرمایا کہ محمد رسول اللہ ﷺ جو حکم دیں اس کی تعمیل کرو اس جگہ اتباع کا لفظ ہے جس کے معنی ‘’قفی اثرہ’‘ کے ہوتے ہیں یعنی اس کے نقشقدم پر چلا- اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے لئے اطاعت کا لفظ تو آتا ہے مگر اتباع کا نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ شرائع سے بالا ہے- لیکن رسول کیلئے اتباع اور اطاعت دونوں الفاظ آتے ہیں- یعنی وہ حکم بھی دیتا ہے اور ان پر خود بھی عمل کرتا ہے- پس فاتبعونی کے یہ معنی ہیں کہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ میں اطاعت الہی سے محبوب الہی بن گیا ہوں- اگر تم بھی میرے جیسے کام کرو گے تو تم بھی محبوب الہی بن جاؤ گے- گویا خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کا دوسرا نام رسول کریم ﷺ کے اعمال رکھا ہے-