انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 405

۴۰۵ نے کشمیر کے مسلمانوں سے وعدہ کیا ہے کہ جب تک کامیابی حاصل نہ ہو جائے خواہ سو سال لگیں ہماری جماعت ان کی مدد کرتی رہے گی اور آج میں اعلان کرتا ہوں کہ کل‘ پرسوں‘ ترسوں‘ سال‘ دو سال‘ سو دو سو سال جب تک کام ختم نہ ہو جائے ہماری جماعت کام کرتی رہے گی یہ ہمارا کشمیر کے مسلمانوں سے وعدہ ہے- حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایک حبشی غلام نے ایک قوم سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ فلاں فلاں رعائتیں تمہیں دی جائیں گی- جب اسلامی فوج گئی تو اس قوم نے کہا‘ ہم سے تو یہ معاہدہ ہے- فوج کے افسر اعلیٰ نے اس معاہدہ کو تسلیم کرنے میں لیت و لعل کی تو بات حضرت عمرؓ کے پاس گئی- انہوں نے فرمایا مسلمان کی بات جھوٹی نہ ہونی چاہئے خواہ غلام ہی کی ہو مگر یہ غلام کا نہیں بلکہ جماعت کے امام کا وعدہ ہے- پس ہماری جماعت کو مسلمانان کشمیر کی امداد جاری رکھنی چاہئے جب تک کہ ان کو اپنے حقوق حاصل نہ ہو جائیں خواہ اس کیلئے کتنا عرصہ لگے اور خواہ مالی اور خواہ کسی وقت جانی قربانیاں بھی کرنی پڑیں- ہم نے یہ کام مظلوم مسلمانوں کی امداد کیلئے شروع کیا ہے مگر بعض لوگوں نے اس کی کامیابی دیکھ کر کہنا شروع کر دیا ہے کہ ہم نے تبلیغ احمدیت کیلئے یہ کام شروع کیا ہے- اس کام کی وجہ سے اگر خدا تعالیٰ کسی کے دل میں ہماری محبت ڈالے تو ہم خدا تعالیٰ کے اس انعام کا انکار نہیں کر سکتے مگر اسے ہم تبلیغ احمدیت کا آلہ نہیں بنا سکتے- اس کام کو چونکہ ہماری جماعت نے ابتغاء لوجہ اللہ شروع کیا ہے تا کہ ایک مظلوم قوم آزاد ہو اس لئے کسی اپنے نفوذ کا ذریعہ نہیں بنانا چاہئے- مخالفین کی فتنہ انگیزیاں لیکن بعض لوگ غصہ سے اس کام کو دیکھتے اور جماعت کی مخالفت کر رہے ہیں- چنانچہ ایک احرار کا گروہ پیدا ہو گیا ہے جو ہر جگہ احمدیت کی مخالفت کر رہا ہے- ان کے ایک لیڈر نے بیان کیا کہ اس میں ہمارا فائدہ ہے- عوام میں کبھی ہمیں رسوخ حاصل نہ ہوتا اگر ہم احمدیت کی مخالفت نہ کرتے- ان لوگوں نے سخت مخالفت شروع کر دی ہے اور پنجاب میں ایسا زمانہ آ گیا ہے کہ جسے دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ یاد آ جاتا ہے- خصوصاً سیالکوٹ میں سخت مخالفت کی جا رہی ہے اور احمدیوں کو تکالیف پہنچائی جا رہی ہیں- اسی طرح اور شہروں میں کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ہم قادیان میں جھتے لے جائیں گے- کسی نے کہا ہے- ایاز قدر ِخود بشناس