انوارالعلوم (جلد 12) — Page 370
۳۷۰ نبی کریم ﷺ کے پانچ عظیم الشان اوصاف بڑھا ہوا ہو- غور کرو! کتنا عظیم الشان اعلان ہے- چند ایک جملے ہیں مگر تمام پست اقوام کو پستی سے نکال کر بلند ترین مقام پر کھڑا ہونے کا موقع بہم پہنچا دیا ہے- آج بھی ان اقوام سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص یہاں موجود ہو تو میں اسے کہوں گا کہ تمہاری تکلیف بھی محمدﷺ رسول اللہ ﷺ سے نہ دیکھی گئی اور آپ کا دل دکھا اور آپﷺ نے تمہاری آزادی کااعلان بھی کر دیا- بعض اقوام قابلیت کے لحاظ سے اپنے آپ کو اعلیٰ سمجھتی ہیں اور دوسروں کو اپنے سے ادنیٰ و حقیر- مثلاً آج کل امریکہ والے اپنے آپ کو SUPER MAN سمجھتے ہیں- آپﷺ نے اس تکلیف سے بھی روکنے کا انتظام کیا اور فرمایا لا یسخر قوم من قوم عسی ان یکونوا خیرا منھم۶۳؎یعنی کوئی قوم اپنی ترقی کی وجہ سے دوسری کو کمتر نہ سمجھے بالکل ممکن ہے کل وہ گر جائے اور دوسری بڑھ جائے کیونکہ یہ سلسلہ دنیا میں ہمیشہ جاری ہے- آج کوئی قوم ترقی کرتی ہے اور کل کوئی اس لئے ایک دوسرے کو عزت کی نگاہ سے دیکھو- غرض ایسی اعلیٰ درجہ کی مساوات قائم کی کہ دنیا جس ذلت میں پڑی تھی اس سے اسے چھڑا دیا- اور یہ عزیز علیہ ماعنتم کی صفت کا ظہور ہے- چوتھی بات آپ کے متعلق یہ فرمائی کہ حریص علیکم زبردست امتیاز ہے- دنیا میں عام دستور ہے کہ لوگ ایک اصول کو پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں یہ نہیں دیکھتے کہ دوسروں کو اس سے فائذہ ہو گا یا نقصان- آج کل طبیب لوگ ڈاکٹروں کی تحقیر کرتے ہیں اور ڈاکٹر اطباء کی مذمت‘ ہومیوپیتھک والے ایلوپیتھی کو برا کہتے ہیں- ان کا خیال ہے کہ جب خدا نے بعض چیزوں میں ایسی خصوصیات رکھی ہیں کہ ذرا سی دوا اسے فائدہ ہو جائے تو یہ لوگ انسان کے دشمن ہیں جو اتنی بڑی بڑی DOSES دیتے ہیں انہوں نے دنیا کی صحت کا ستیا ناس کر دیا ہے- اور یہ نہیں سوچتے کہ خدا تعالیٰ نے سب چیزوں میں فوائد رکھیں- لالہ لاجپت رائے کی صحت خراب تھی- انہوں نے بڑے بڑے ڈاکٹروں سے علاج کرایا- کوئی فائدہ نہ ہوا آخرحکیم نابینا صاحب سے علاج کرایا اور انہیں شفا ہو گئی- اسی طرح ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کو پتھری تھی- انہیں بھی ڈاکٹروں کے علاج سے صحت نہ ہوئی اور حکیم نابینا صاحب کے علاج سے وہ صحت یاب ہوگئے- پھر بعض مریض ایسے ہیں کہ طبیب سالہا سال علاج کرتے رہے مگر آرام نہ ہوا اور ڈاکٹری علاج سے دنوں میں فائدہ ہو گیا- اگر انسان کی زندگی کی قدر ان لوگوں کے مدنظر ہوتی تو چاہیئے تھا اپنے اپنے اصل کے ہی پیچھے نہ پڑے رہتے بلکہ اگر ڈاکٹری علاج میں کوئی