انوارالعلوم (جلد 12) — Page 180
۱۸۰ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا شاندار اور وسیع کام اس وقت ہندوستان کے ایک مشہور عالم اہالیان کشمیر کی امداد کے لئے سری نگر میں کشمیر کمیٹی کی طرف سے تشریف رکھتے ہیں- دو وکیل اور ایک گریجویٹ دفتری کام کے لئے اور ایک کلرک سری نگر میں اور ایک وکیل جموں میں کام کر رہے ہیں- ایک اور وکیل دو تین دن تک جموں پہنچ جائیں گے اور ایک وکیل کا میر پور کے لئے انتظام ہو رہا ہے- اور ایک یا دو وکیل زائد گلینسی کمیشن کے کاموں کی نگرانی کے لئے جلد بھیجنے اور ضروری ہیں- اس وقت تک جو وکلاء جا رہے ہیں وہ مفت کام کر رہے ہیں لیکن ان کے اخراجات خور و نوش مکان اور کرایوں کا انتظام‘ گواہیاں جمع کرنے اور ہر قسم کی معلومات کمیشن کے لئے مہیا کرنے کا خرچ نہایت کثرت سے اس وقت پڑ رہا ہے اور کچھ ماہ تک یہ خرچ بجائے کم ہونے کے بڑھتا جائے گا- جموں میں سینکڑوں مسلمان گھر فاقے کر رہے ہیں‘ ان کے لئے ریلیف کی الگ ضرورت ہے اور پروپیگنڈا مزید برآں ہے- ان دنوں میں گورنمنٹ اور پریس کی تاروں کا خرچ ہی تین چار سو روپیہ ماہوار تک پہنچ جاتا ہے- انگلستان کی تاریں جو وہاں کے نمائندوں کو صورت حالات سے آگاہ کرنے کیلئے دی جاتی ہیں‘ بہت سا خرچ چاہتی ہیں- آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی آمد و اخراجات یہ کل اخراجات تین چار ہزار روپیہ ماہوار تک پہنچ جاتے ہیں اور ان سب اخراجات کی ادائیگی آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ذمہ ہے جو اس وقت تک سب اخراجات ادا کرتی رہی ہے- اس وقت تک مسلم بنک آف انڈیا کے ذریعہ سے کل آمد اس کمیٹی کی ۴۶۰۰ کے قریب ہے- اور براہ راست آمد ایک ہزار کے قریب ہے- اس میں بھی ایک ہزار کے قریب رقم میری طرف سے اور انجمن احمدیہ کی طرف سے ہے- میں ان سفروں پر جو اس کام پر مجھے کرنے پڑے ہیں ذاتی طور پر اور اپنی جماعت کے دفتر کی طرف سے چار ہزار سے زائد رقم خرچ کر چکا ہوں- جو رقم نقدی کی صورت میں اس وقت تک کشمیر اور جموں بھیجی جا چکی ہے‘ وہ پانچ ہزار سے اوپر ہے اور جو کرایوں وغیرہ کی صورت میں یا مطبوعات کی صورت میں وہاں گئی ہے‘ اسے ملا کر سات ہزار کے قریب رقم کشمیر اور جموں پہنچ چکی ہے- تاروں‘ اشتہاروں‘ ٹریکٹوں‘ سفرخرچ اور انگلستان کے پروپیگنڈا کا خرچ ملا کر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا خرچ بہت زیادہ ہو جاتا ہے اور اس وقت اس کا فنڈ ۴۳۰۰ روپے کا مقروض ہے لیکن اس وقت جب کہ کام کا یکدم زور آ پڑا