انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 89

۸۹ اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ریاست کشمیر و جموں میں مسلمانوں کی حالت (تحریر فرمودہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ۱۲ جون ۱۹۳۱ء) میں متواتر کئی سال سے کشمیر میں مسلمانوں کی جو حالت ہو رہی ہے اس کا مطالعہ کر رہا ہوں اور لمبے مطالعہ اور غور کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہوا ہوں کہ جب تک مسلمان ہر قسم کی قربانی کرنے کیلئے تیار نہ ہوں گے یہ زرخیز خطہ جو نہ صرف زمین کے لحاظ سے زرخیز ہے بلکہ دماغی قابلیتوں کے لحاظ سے بھی حیرت انگیز ہے‘ کبھی بھی مسلمانوں کیلئے فائدہ بخش تو کیا آرام دہ ثابت نہیں ہو سکتا- زمینداروں میں بیداری کی روح میں ۱۹۲۹ء میں جب کشمیر گیا تو مجھے یہ بات معلوم کر کے نہایت ہی خوشی ہوئی کہ مسلمانوں میں ایک عام بیداری پائی جاتی تھی- حتی کہ کشمیری زمیندار جو کہ لمبے عرصہ سے ظلموں کا تختہ مشق ہونے کی وجہ سے اپنی خود داری کی روح بھی کھو چکے تھے ان میں بھی زندگی کی روح داخل ہوتی ہوئی معلوم دیتی تھی- اتفاق حسنہ سے زمینداروں کی طرف سے جو جدوجہد کی جا رہی تھی اس کے لیڈر ایک احمدی زمیندار تھے- زمینداروں کی حالت کے درست کرنے کے لئے جو کچھ وہ کوشش کر رہے تھے اس کی وجہ سے ریاست انہیں طرح طرح سے دق کر رہی تھی- وہ ایک نہایت ہی شریف آدمی ہیں‘ معزز زمیندار ہیں‘ اچھے تاجر ہیں اور ان کا خاندان ہمیشہ سے ہی اپنے علاقہ میں معزز چلا آیا ہے اور وہ بھی اپنی گزشتہ عمر میں نہایت ہی معزز اور شریف سمجھے جاتے رہے ہیں لیکن محض کسانوں کی حمایت کی وجہ سے ان کا نام بدمعاشوں میں لکھنے کی کوشش کی جا رہی تھی- جب مجھے یہ حالات معلوم ہوئے تو میں نے مولوی عبدالرحیم صاحب درد