انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 592 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 592

۵۹۲ فضائل القرآن(نمبر ۳) ہندو مذہب نے شادی کی ضرورت پر کچھ نہیں لکھا۔صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ شادی ان کے دیوتا بھی کرتے تھے پھر بندے کیوں نہ کریں گے۔مگر ساتھ ہی بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ نجات کا اصل ذریعہ یہ ہے کہ انسان سب دنیا سے الگ ہوکر عبادت کرے۔منوجی نے جن کی تعلیم ہندو مانتے ہیں یہ بھی بتایا ہے کہ پچیس سال تک کنوارہ رہنا چاہئے پھر پچیس سال تک شادی شدہ رہے۔لیکن وید اس بارہ میں بالکل خاموش ہیں جو ہندوؤں کی اصل مقدس کتاب ہے۔شادی کی ضرورت۔اس کی حقیقت اور اس کے نظا م وغیرہ کے متعلق منو وغیرہ بھی خاموش ہیں۔بدھ مذہب نے شادی نہ کرنے کو افضل قرار دیا ہے کیونکہ پاکیزہ اور اعلیٰ خادمانِ مذہب کے لئے شادی کو منع کیا ہے۔خواہ مرد ہو خواہ عورت۔یہی جَین مذہب کی تعلیم ہے۔اب اسلام کو دیکھو تو معلوم ہوتا ہے کہ اس تعلق کو اس نے کس طرح نہایت اعلیٰ مسئلہ بنا دیا ہے اور اسے دین کا جزو اور روحانی ترقی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔اسلام شادی کو ضروری قرار دیتا ہے اس بارہ میں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مرد اور عورت کا تعلق ہونا چاہئے۔اور کیا انہیں اکٹھے زندگی بسر کرنی چاہئے ؟ قرآن کریم اس کے متعلق کہتا ہے کہ شادی ضروری ہے۔نہ صرف یہ کہ ضروری ہے بلکہ جو بیوہ ہوں ان کی بھی شادی کر دینی چاہئے۔اور شادی کرنے کی دلیل یہ دیتا ہے کہ یَآ أَیُّھا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْھا زَوْجَھا ۵۰؂ یعنی اے انسانو! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو۔جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی قسم کا جوڑا بنایا۔اس آیت سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔انسانیت ایک جوہر ہے۔یہ کہنا کہ انسانیت مرد ہے یا یہ کہنا کہ انسانیت عورت ہے غلط ہے۔انسانیت ایک علیحدہ چیز ہے۔وہ نفس واحدہ ہے۔اس کے دو ٹکڑے کئے گئے ہیں۔آدھے کا نام مرد ہے اور آدھے کا نام عورت۔جب یہ دونوں ایک ہی چیز کے دو ٹکڑے ہیں تو جب تک یہ دونوں نہ ملیں گے اس وقت تک وہ چیز مکمل نہیں ہوگی۔وہ تبھی کامل ہوگی جب اس کے دو نوں ٹکڑے جوڑ دئیے جائیں گے۔یہ اسلام نے مرد اور عورت کے تعلق کا اصل الاصول بتایا ہے کہ مرد اور عورت علیحدہ