انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 385

۳۸۵ نہیں ہو گی بلکہ غصہ اور رنج بڑھے گا اور جب وہ دیکھے گی کہ جائز ذریعہ سے میرے حقوق نہیں ملتے تو وہ فساد اور لڑائی پر آمادہ ہو جائے گی- لیکن جب کسی قوم کے حقوق اسے ملجائیں گے تو وہ ان غم اور غصہ کے خیالات سے بہت کچھ آزاد ہو جائے گی چنانچہ اس کا ثبوت مسٹرچنتامونی کے اس بیان سے جو انہوں نے انڈین ریفارمز کمیٹی (INDIAN REFORMS COMMITTEE) کے سامنے دیا تھا ملتا ہے- مسٹر چنتا مونی لبرل لیڈر ہیں اور اس وقت راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے نمائندے ہو کر گئے ہیں- سر محمد شفیع صاحب بیان کرتے ہیں- ‘’جیسا کہ انڈین ریفارمز کمیٹی کے سامنے مسٹر چنتا مونی نے بیان کیا تھا کہ جداگانہ انتخاب سے صوبہ جات متحدہ کے مسلمانوں کے قلوب میں اپنے حقوق کے محفوظ ہو جانے کی وجہ سے جو اطمینان پیدا ہوا اور اس کا جو اچھا نتیجہ ہندو مسلم تعلقات کے بہتر ہو جانے کی صورت میں نکلا وہ ایسا نمایاں تھا کہ مسٹر چنتا مونی اور ان کے ہم خیال ہندوؤں نے میونسپل کمیٹیوں اور ڈسٹرکٹ بورڈوں میں بھی جداگانہ انتخاب کے طریق کو جاری کر دیا’‘-۵۲؎ اس کے مقابلہ میں مشترکہ انتخاب نے ہندوستان کی فضاء میں جو اثر پیدا کیا ہے وہ یہ ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے ایک ممبر متحدہ طور پر سب اقوام کی طرف سے منتخب ہوتا ہے- اس وقت تک کئی الیکشن ہو چکے ہیں لیکن مسلمان اس حلقہ انتخاب سے ایک دفعہ کوشش کرنے کے بعد اس قدر مایوس ہوئے ہیں کہ اب کوئی مسلمان اس حلقہ کی طرف سے کھڑا ہی نہیں ہوتا اور ان کی ساری کوشش اس امر میں مرکوز رہتی ہے کہ کوئی مسلمان اس حلقہ میں ووٹ نہ دے تا کہ ہندو ممبر مسلمانوں کا نمائندہ نہ سمجھا جا سکے- اگر مشترکہ انتخاب کا مطالبہ واقعہ میں ہندوؤں کی طرف سے قومی اتحاد کی خاطر ہوتا تو یہ خطرناک نتیجہ اس حلقہ میں جس کا ہر ووٹر یونیورسٹی کا گریجوایٹ ہے کیوں نکلتا اور اگر یہ طریق ہر ملک میں قطع نظر وہاں کے مخصوص حالات کے ایسا ہی بابرکت ہوتا تو ہندوستان کے وہ حلقے جن میں اس طریق کو رائج کیا گیا ہے سب سے زیادہ تعصب بغض اور کینہ کے نظارے کیوں دکھاتے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مشترکہ انتخاب کے طریق میں یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اس کے ماتحت جو انتخاب ہوں ان میں ایسے مسائل کو نہیں چھیڑا جا سکتا جو ایک قوم کو دوسری قوم سے لڑوانے