انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 384

۳۸۴ ہندوؤں کے افعال کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے اور یہ وہ صداقت ہے کہ اسے لارڈ منٹو (LORD MINTO) بھی تسلیم کر چکے ہیں اور اسی کتاب میں میں ثابت کر چکا ہوں کہ حالات اور عقل بھی اسی رائے کی تائید کرتے ہیں- سائمن رپورٹ کا بیان ہے کہ مانٹیگو چیمسفورڈ رپورٹ باوجود اس کی ضرورت کو تسلیم کرنے کے بیان کرتی ہے کہ جُداگانہ انتخاب- ‘’فرقہ وارانہ امتیاز کو ہمیشہ کیلئے مستقل کرتا ہے اور اقوام کے موجودہ تعلقات کو ایک نہ بدل سکنے والی شکل دے دیتا ہے اور حکومت خود اختیاری کے اصول کی ترقی کے راستہ میں ایک سخت روک ہے’‘- خود سائمن کمیشن کے ممبر بھی اس رائے کی ان الفاظ میں تائید کرتے ہیں کہ-: ‘’اگر اوپر کے خیالات کو تسلیم کرنا تعصب ہے تو ہم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارے خیالات بھی یہی ہیں’‘- ۵۱؎ میرا خیال ہے کہ نہ مانٹیگو چیمسفورڈ رپورٹ کے لکھنے والوں نے اور نہ سائمن رپورٹ (SIMON REPOT)کے لکھنے والوں نے اس امر کا خیال کیا ہے کہ جداگانہ اور مشترکہ انتخاب مختلف مواقع کے لحاظ سے مختلف اثر پیدا کرتے ہیں- انسانی دماغ سب شعبہ ہائے زندگی میں ایک ہی طرح عمل کرتا ہے- جس طرح میاں بیوی میں جب شقاق پیدا ہوتا ہے تو ایک حد تک صلح کی کوشش کر کے ہمیں انہیں علیحدہ کرنا پڑتا ہے اور وہ تعلقات جو اکٹھا رکھنے سے درست نہیں ہو سکتے اس طرح بسا اوقات درست ہو جاتے ہیں- یہی حال قوموں کا ہوتا ہے جب ان کا تنافر حد سے بڑھ جاتا ہے تو ان میں ایک حد تک علیحدگی بجائے نقصان کے فائدہ کا موجب ہوتی ہے- مانٹیگوچیمسفورڈ رپورٹ اور سائمن رپورٹ کے مصنفوں کے دل پر یہ خیال حاوی معلوم ہوتا ہے کہ صرف اس لئے کہ مسلمان اس کے چھوڑنے پر ناراض ہونگے علیحدہ نمائندگی کی ضرورت ہے حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ موجودہ صورت حالات میں یہی علاج ملک میں قیام امن کا موجب ہو سکتا ہے- جب ایک کمزور قوم جس میں بیداری پیدا ہو چکی ہو یہ دیکھتی ہو کہ وہ قوم جو پہلے سے مضبوط تھی اس کی ترقی کے راستہ میں پورا زور لگا کر روکیں پیدا کرتی ہے اور حکومت میں اپنے مناسب حصہ کے حصول کی بھی اسے اجازت نہیں دیتی تو ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اس حالت کو دیکھ کر یکجائی الیکشن سے اس کے خیالات میں سکون اور محبت پیدا