انوارالعلوم (جلد 11) — Page 375
۳۷۵ تو گورنر اس کونسل کو برخواست کر کے نئی کونسل کے انتخاب کا حکم دے- اس طریق کو اختیار کرنے سے دونوں فریق یعنی وزارت بھی اور گورنر بھی اپنی حد کے اندر رہنے کی کوشش کریں گے- وزارت اس بات سے ڈرے گی کہ اگر وہ ناجائز اصرار کرے گی تو شاید کوئی دوسری وزارت اس کی جگہ لینے کو تیار ہو جائے- یا وہ اس امر سے ڈرے گی کہ اگر اس کے ظلموں کی وجہ سے کونسل کو برخواست کیا گیا تو شاید ملک اس کی امداد نہ کرے اور انتخاب میں اسے شکست حاصل ہو- اسی طرح گورنر بھی خیال رکھے گا کہ میں اس وقت اپنے پہلو پر زور دوں جب کہ ملک کا ایک طبقہ میرا ساتھ دینے کیلئے تیار ہو- ورنہ بلاوجہ دخل اندازی وزارت کو اور زیادہ ہر دل عزیز کر دے گی- اگر مذکورہ بالا طریق کے باوجود بھی ظلم کی کوئی صورت باقی رہ جائے گی تو اس کا علاج سپریم کورٹ کے ذریعہ سے جس کی ضرورت میں پہلے ثابت کر آیا ہوں مظلوم گروہ کر سکتا ہے- وزارت کے کام کے طریق کے متعلق جو کچھ کمیشن نے لکھا ہے میرے نزدیک درست ہے- بعض لوگ مجلس وزارت کا سیکرٹری مقرر کرنے کی جو کمیشن نے سفارش کی ہے تا وہ گورنر کو وزارت کی مجلس کی کارروائیوں سے اطلاع دیتا رہے اسے جاسوس قرار دے کر ناپسند کرتے ہیں لیکن جب کہ وزارت کی مجلس کا پریذیڈنٹ قانوناً گورنر سمجھا جاتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ گورنر حالات سے آگاہ نہ رہے اور کوئی وجہ نہیں کہ اس کو حالات سے واقف رکھنے کا نام جاسوسی رکھا جائے- خطرناک حالات کے متعلق گورنروں کے اختیارات کمیشن نے ایسے خطرناک حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے جب کوئی صورت بھی آئینی طور پر حکومت چلانے کی باقی نہ رہے گورنروں کو خاص اختیارات دیئے ہیں جو یہ ہیں کہ ایسے حالات میں انہیں اختیار ہوگا کہ خواہ وہ سب کام کو اپنے ہاتھ میں لے لیں خواہ اپنے مددگار مقرر کر کے حکومت کا کام چلائیں- خطرناک صورت کی تشریح اس نے یہ کی ہے کہ ایسی وزارت کا بنانا یا قائم رکھنا مشکل ہو جائے جسے کونسل کی امداد حاصل ہو یا جب کہ گورنمنٹ کے کام کو چلانے سے عام طور پر انکار کر دیا جائے اور اس کے کام کو خراب کرنے کی کوشش کی جائے- ان حالات میں جب گورنر حکومت کو اپنے ہاتھ میں لے لے کمیشن نے اسے اختیار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے وزراء مقرر کرے اور انہیں کونسلوں کا ممبر مقرر