انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 374

۳۷۴ درست نہیں- کیونکہ میں ثابت کر چکا ہوں کہ اصولاً بھی ایسے علاقوں کی موجودگی فیڈریشن کے اصول کے خلاف ہے اور عملاً بھی اس سے گورنمنٹ میں اوپر سے نیچے تک ثنائیت (DUALITY) پیدا ہوتی ہے جو عمدہ گورنمنٹ کے اصول کے خلاف ہے اور جس کی اجازت صرف خاص صورتوں میں دی جا سکتی ہے- اب دو پہلی صورتیں باقی رہ جاتی ہیں- میرے نزدیک ان دونوں صورتوں میں گورنر کو اختیار دینا نظام حکومت کو پراگندہ کرنے والا ہوگا- پہلی صورت میں حفاظت اور امن کے لفظ اس قدر مبہم ہیں کہ ان کے ماتحت ہر وقت گورنر دخل دے سکتا ہے اور وزارت کا حقیقی معنوں میں وزارت ہونا صرف گورنر کے مزاج پر منحصر ہوگا- اچھا گورنر اپنے آپ کو روکے رکھے گا بُرا گورنر جس طرح چاہے گا دخل دے گا اور کہے گا کہ یہ امن اور ملک کی حفاظت کی خاطر میں ایسا کرتا ہوں- یہی حال دوسری شق کا ہے- اس میں اقلیتوں کو خطرناک نقصان پہنچنے کی صورت میں دخل اندازی کی اجازت دی گئی ہے لیکن ایسی بیوقوف وزارت کم ہی ہوگی کہ جو اقلیتوں پر ظلم کو خطرناک صورت میں ظاہر ہونے دے- پس اقلیت کو تو اس شرط سے کچھ فائدہ نہیں- اکثریت ان کا گلا کاٹتی جائے گی اور گورنر خطرناک صورت کے انتظار میں بیٹھا رہے گا- ہاں جب کوئی گورنر ایسا آ جائے گا جو حکومت میں زیادہ حصہ لینے کا خواہشمند ہوگا تو وہ اس استثناء سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ضرور دخل اندازی کرے گا- حالانکہ اگر کوئی وزارت خطرناک طور پر اقلیتوں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو جائے تو بجائے اس کے کہ گورنر اس کی غلطیوں کی اصلاح میں لگا رہے اس کا فرض ہونا چاہئے کہ وہ اس وزارت کو استعفاء دینے پر مجبور کرے اور اگر اس کی جگہ دوسری وزارت نہ کھڑی کی جا سکتی ہو تو اس کونسل کو برخواست کر دے جس کے افراد صرف انہی لوگوں کو وزیر مقرر کرنے کیلئے مصر ہوں جو اقلیتوں پر خطرناک قسم کے ظلم روا رکھتے ہوں اور نئی کونسل کا انتخاب کرائے- میرے نزدیک یہ دونوں صورتیں جن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں گورنر کو دخل اندازی کا اختیار دیا گیا ہے ان کی موجودگی میں گورنر کو یہ طریق اختیار کرنا چاہئے کہ وزارت کو سمجھائے- اگر وزارت اس کے مشورہ کو قبول نہ کرے اور وہ سمجھے کہ معاملہ اہم ہے تو اسے مجبور کرے کہ وہ استعفاء دے دے- اگر دوسری وزارت کھڑی نہ ہو یا اسی طریق عمل کو اختیار کرے تو اگر معاملہ اہم ہو