انوارالعلوم (جلد 11) — Page 336
۳۳۶ کرے کہ انہوں نے اپنے حق سے باہر تو کوئی قانون نہیں بنا دیا- اس وجہ سے جس قدر آئیناساسی کے اصول کے چوٹی کے ماہر ہیں ان کا متفقہ فیصلہ ہے کہ جس حکومت کا آئیناساسی مستقل یا غیر لچک دار ہو یعنی ملک نے اسے یہ آزادی نہ دی ہو کہ وہ جو چاہے کرے اس کے لئے ایک ایسے محکمہ کا ہونا ضروری ہے کہ جو کسی طرف سے اپیل دائر ہونے پر یہ فیصلہ کرے کہ حکومت نے قانون اساسی کی خلاف ورزی تو نہیں کی- چنانچہ لارڈ برائس کینیڈا کی کانسٹی ٹیوشن کا بیان کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ-: ‘’جیسا کہ ان حکومتوں کے متعلق کہ جو کسی آئین اساسی کے ماتحت محدود اختیار رکھتی ہوں عقل کا تقاضا ہے (کینیڈا کی) عدالتوں کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے کہ آیا کوئی قانون حکومت کا غیر آئینی تو نہیں’‘- ۴۰؎ اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ لارڈ برائس کے نزدیک اس حکومت کے لئے جس کے آئین اساسی مستقل ہیں یا دوسرے لفظوں میں جس کی مجلس واضع قوانین محدود اختیارات رکھتی ہے- ضروری ہے کہ اس کے ساتھ ایک ایسا محکمہ ہو جو بصورت اپیل فیصلہ کر سکے کہ مجلس نے اپنے حقوق سے تجاوز تو نہیں کیا- اس میں کوئی شک نہیں کہ لارڈ برائس کے بیان کے مطابق امریکن مصنفوں کے بر خلاف یورپ کے بہت سے قانون دان اس اصل کے مخالف ہیں اور ضروری نہیں سمجھتے کہ آئین اساسی کے متعلق اختلاف کی صورت میں مجلس قانون ساز کے سوا کوئی اور محکمہ فیصلہ کرے کہ کونسا فریق حق پر ہے- چنانچہ وہ تحریر کرتے ہیں-: ‘’یہ رائے یورپ کے براعظم میں صحیح تسلیم نہیں کی جاتی- وہاں سوئٹررلینڈ اور فرانس کی جمہوریتوں اور جرمن بادشاہت کے قانون دان اب تک مصر ہیں کہ مجلس عاملہ اور عدالت قانون ساز مجلس کے ماتحت ہونی چاہئے- چنانچہ دو نہایت ہی اعلیٰ پایہ کے سوئٹررلینڈ کے قانون دانوں نے میرے سامنے یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ امریکن طریق زیادہ معقول ہے بیان کیا کہ (فیصلہ کرنے والی عدالت کے بغیر) سوئٹنررلینڈ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور یہ بھی بیان کیا کہ افراد ملک کو اس طرح کوئی سخت نقصان نہیں پہنچ سکتا کیونکہ ان کے سامنے معاملہ کو پیش کر کے ان کی حفاظت کا سامان کیا جا سکتا ہے’‘- ۴۱؎ لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ اختلاف جو سوئٹررلینڈ کے قانون دانوں نے کیا ہے حقیقی