انوارالعلوم (جلد 11) — Page 337
۳۳۷ نہیں ہے اور سوئٹنررلینڈ کے قانون اساسی سے ہر گز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سوئٹنررلینڈ میں کوئی سپریم کورٹ نہیں ہے بلکہ خود انہی دو ماہرین قانون کے بیان سے جو لارڈ برائس نے نقل کیا ہے ثابت ہے کہ وہاں بھی سپریم کورٹ ہے- کیونکہ وہ بیان کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کی سوئٹنررلینڈ میں اس لئے ضرورت نہیں کہ اگر آئین اساسی کے خلاف کوئی بات اسمبلی کرے تو ملک کے باشندے اپنے حق کی حفاظت کر سکتے ہیں اور اس حفاظت سے ان کی مراد ریفرنڈم (REFERENDUM) ہے- یعنی ملک سے ووٹ لے کر فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ ملک زیر اعتراض قانون کو آئین اساسی کے خلاف سمجھتا ہے یا نہیں- چنانچہ لارڈ برائس ان کے قول کی مزید تشریح مذکورہ بالا فقرہ سے اگلے فقرہ میں یوں بیان کرتے ہیں کہ-: ‘’اگر قومی مجلس کے کسی قانون کے متعلق خیال کیا جائے کہ وہ قانون اساسی کے خلاف ہے تو اسی وقت یہ مطالبہ کیا جا سکتا ہے کہ ملک کے باشندوں کی اس کے متعلق رائے لی جائے- پھر ملک خود فیصلہ کر دے گا کہ قانون آئین اساسی کے خلاف ہے یا نہیں’‘- ۴۲؎ اس طرح پروفیسر ڈبلیو- بی- منرو MUNROE(۔B۔(W پی- ایچ- ڈی- ایل- ایل- بی لکھتے ہیں کہ-: ‘’اس کے برخلاف اگر کسی معاملہ کے خلاف درخواست دی جائے کہ وہ قانون اساسی کے خلاف ہے اور ملک کی عام رائے اس کے بارہ میں حاصل کی جائے تو اگر اکثر رائے دہندگان اس کے خلاف ہوں تو وہ قانون منسوخ ہو جائے گا’‘- ۴۳؎ ان دونوں حوالوں سے ثابت ہے کہ سوئٹررلینڈ میں بھی آئین اساسی کے ٹوٹنے کی صورت میں ایک ایسا محکمہ مقرر ہے جس کے سامنے اپیل کی جا سکے گو چند آدمیوں کی جماعت پر مشتمل نہیں ہے بلکہ ملک کے سب افراد پر مشتمل ہے اور سب ملک کے باشندوں کا کورٹ بھی ویسا ہی سپریم کورٹ کہلا سکتا ہے جیسے کہ چند افراد کا کورٹ سپریم کورٹ کہلا سکتا ہے- غرض اصل بات یہ ہے کہ یورپ کے قانون دانوں نے اس امر کو سمجھا ہی نہیں کہ امریکن اور دوسرے ماہرین قانون کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ غیر لچکدار آئین اساسی کے لئے کسی خاص شکل کے سپریم کورٹ کا ہونا ضروری ہے- جو کچھ ان کا دعویٰ ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی کسی حکومت کا آئین اساسی غیر لچکدار ہو یہ ضروری ہے کہ کوئی ایسا محکمہ بنایا جائے کہ جو اختلاف