انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 274

۲۷۴ ہیں- اس کے باشندے اعلیٰ فوجی عہدوں پر مامور تھے اور نظام سلطنت کے ہر شعبہ میں آئرلینڈ کو تجربہ حاصل تھا- علاوہ ازیں آئرلینڈ کا ملک ایک چھوٹا جزیرہ ہے جسے بوجہ انگلستان سے ملحق ہونے کے کسی بحری طاقت سے خطرہ نہیں اور ملک میں صرف ایک ہی قوم بسنے کی وجہ سے کوئی زیادہ پریشانی کے سامان نہیں- یہی حال دوسرے ممالک کا ہے جو جنگ عظیم کے بعد آزاد ہوئے ہیں- گو وہ نام کے لحاظ سے دوسری حکومتوں سے ملحق تھے لیکن کام کے لحاظ سے وہ اپنے حاکموں کے ساتھ شریک تھے اور ان کی جدائی صرف نام کی جدائی تھی لیکن یہ حال ہندوستان میں نہیں- ہندوستان میں اگر کوئی حصہ فوراً آزاد کیا جا سکتا ہے تو وہ صوبہ جات ہیں- جن کے سب کل پرزے پہلے ہی ہندوستانیوں کے قبضہ میں آ چکے ہیں- باقی رہا مرکز اس کے آزاد کرنے کے لئے بہت کچھ تیاری کی ضرورت ہے- فلپائن کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے- یونائیٹڈ سٹیٹس نے ان جزائر کو اور کیوبا کو آزاد کرانے کے لئے سپین سے جنگ کی لیکن باوجود ارادہ کے انہیں فوراً آزادی دینے کے قابل نہ ہوئیں اور کیوبا کے متعلق تو تھوڑی لیکن فلپائنز کے متعلق بہت زیادہ نگرانی اور حفاظت کی ضرورت انہیں محسوس ہوئی- چنانچہ فلپائنز کی حکومت تو اب تک بھی ان کی نگرانی کی محتاج ہے- اس زمانہ میں کسی ملک کو پوری آزادی حاصل کرنے کیلئے مندرجہ ذیل چیزوں کی ضرورت ہے- ۱ فوج کے انتظام کرنے کی اہلیت رکھنے والے افسروں کی- ۲ اس قسم کے کارخانوں کی جہاں اسلحہ جنگ تیار اور مرمت ہو سکیں- ۳ ہوائی جہازوں پر کام کرنے والے اور ان کے جنگی کام کی اہلیت رکھنے والے اعلی ٰافسروں کی- ۴ بحری بیڑے کی جو ساحل کی حفاظت نہ صرف غنیم سے بلکہ بد دیانت تاجروں کی دخلاندازی سے بھی کرے- یہ چار چیزیں تو ایسی ہیں کہ جن کی آزادی کے لئے فوری ضرورت ہے- باقی اور بیسیوں امور ہیں کہ جن کی تکمیل کی ضرورت ہے- گو انہیں ایک وقت تک نظر انداز بھی کیا جا