انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 225

۲۲۵ عرفان ِالہٰی اور محبت باللہ کا وہ عالی مرتبہ ہاں گئے اس وقت مخالفین کی شرارتیں اس حد تک بڑھی ہوئی تھیں کہ جب رسول کریم ﷺ گھر سے باہر نکلتے تو آپ پر پتھر اور مٹی پھینکتے- بیہودہ آوازے کستے- ہنسی اور تمسخر کرتے مگر آپ نے ان باتوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور اس آدمی کو لے کر ابوجہل کے محلہ میں گئے اور جا کر اس کے دروازے پر دستک دی- جب ابوجہل نے دروازہ کھولا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ شخص جس کا میں اس قدر دشمن ہوں وہ یہاں کس طرح آ گیا- اس نے پوچھا- آپ کس طرح آئے ہیں- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اس شخص کا روپیہ دینا ہے؟ ابوجہل نے کہاں ہاں دینا ہے- رسول کریم ﷺ نے فرمایا- دے دو- اس پر اتنا رعب طاری ہوا کہ وہ دوڑا دوڑا گھر میں گیا اور فوراً روپیہ لا کر دے دیا- اس کے بعد کسی نے اس سے پوچھا- تم تو کہا کرتے تھے کہ محمد کو جس قدر ذلیل کیا جائے اور جتنا دکھ دیا جائے اتنا ہی اچھا ہے- پھر تم نے اس سے ڈر کر روپیہ کیوں دے دیا اس نے کہا- آپ لوگ جانتے نہیں میری اس وقت یہ حالت تھی کہ گویا میرے سامنے شیر کھڑا ہے- اگر میں نے ذرا انکار کیا تو مجھے پھاڑ ڈالے گا- اس لئے میں ڈر گیا اور فوراً روپیہ دے دیا-۷؎ اب دیکھو رسول کریم ﷺ کا اشد ترین دشمن کے گھر چلے جانا اور اس سے روپیہ کا مطالبہ کرنا اسی لئے تھا کہ آپ سمجھتے تھے خدا تعالیٰ کی ذات مجھ میں جلوہ گر ہے اور ممکن نہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا دشمن بھی مجھ پر حملہ کر سکے- تیسرے موقع کی مثال یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ ایک جنگ سے واپس آ رہے تھے کہ دوپہر کے وقت جنگل میں آرام کرنے کے لئے لیٹ گئے- دوسرے صحابی علیحدہ علیحدہ جگہوں میں لیٹے ہوئے تھے کہ ایک شخص جس نے یہ قسم کھا رکھی تھی کہ آپ کو قتل کئے بغیر واپس نہ لوٹوں گا اور جسے دوران جنگ میں حملہ کرنے کا موقع نہ ملا تھا- آیا اور درخت سے لٹکی ہوئی تلوار اتار کر رسول کریم ﷺ کو جگا کر کہنے لگا- اتنی مدت سے میں تمہاری تلاش میں تھا اب مجھے موقع ملا ہے بتاؤ اب تمہیں کون بچا سکتا ہے- رسول کریم ﷺ نے اسی طرح لیٹے لیٹے بغیر کسی قسم کی گھبراہٹ کا اظہار کئے فرمایا- مجھے اللہ بچا سکتا ہے- ۸؎ یہ الفاظ بظاہر معمولی معلوم ہوتے ہیں اور کئی لوگ ان کی نقل کر کے یہ کہہ سکتے ہیں مگر ان کا نتیجہ بتاتا ہے کہ ان میں کیسی صداقت تھی- جب آپ نے فرمایا- مجھے اللہ بچا سکتا ہے تو حملہ آور کا ہاتھ کانپ گیا اور تلوار گر گئی- اس وقت آپ اٹھے اور تلوار ہاتھ میں لے کر کہا- اب بتاؤ تمہیں کون بچا سکتا ہے- اس نے کہا آپ ہی رحم کریں تو میں بچ سکتا