انوارالعلوم (جلد 11) — Page 224
۲۲۴ عرفان ِالہٰی اور محبت باللہ کا وہ عالی مرتبہ ہے- جس کا منہ دو تین گز چوڑا ہوگا- اس میں جا کر ٹھہر گئے جب مکہ کے لوگوں کو پتہ لگا کہ آپ چلے گئے ہیں تو انہوں نے آپ کا تعاقب کیا- عرب میں بڑے بڑے ماہر کھوجی ہوا کرتے تھے- ان کی مدد سے تعاقب کرنے والے عین اس مقام پر پہنچ گئے- جہاں رسول کریم ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ بیٹھے تھے- خدا کی قدرت کہ غار کے منہ پر کچھ جھاڑیاں اگی ہوئی تھیں جن کی شاخیں آپس میں ملی ہوئی تھیں- اگر وہ لوگ شاخوں کو ہٹا کر اندر دیکھتے تو رسول کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ بیٹھے ہوئے نظر آ جاتے- جب کھوجی وہاں پہنچے تو انہوں نے کہا کہ یا تو وہ آسمان پر چڑھ گئے ہیں یا یہاں بیٹھے ہیں اس سے آگے نہیں گئے- خیال کرو اس وقت کیسا نازک موقع تھا- اس وقت حضرت ابوبکرؓ گھبرائے مگر اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ رسول کریم ﷺ کیلئے- اس وقت رسول کریم ﷺ نے فرمایالا تحزن ان اللہ معنا- ۶؎ گھبراتے کیوں ہو- خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے- اگر رسول کریم ﷺ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں نہ دیکھتے تو کس طرح ممکن تھا کہ ایسے نازک وقت میں گھبرا نہ جاتے- قوی سے قوی دل گردہ کا انسان بھی دشمن سے عین سر پر آ جانے سے گھبرا جاتا ہے- مگر رسول کریم ﷺ کے بالکل قریب بلکہ سر پر آپ کے دشمن کھڑے تھے اور دشمن بھی وہ جو تیرہ سال سے آپ کی جان لینے کے درپے تھے اور جنہیں کھوجی یہ کہہ رہے تھے کہ یا تو وہ آسمان پر چڑھ گئے ہیں یا یہاں بیٹھے ہیں- اس جگہ سے آگے نہیں گئے- اس وقت رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں-لاتحزن اناللہ معنا خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے تمہیں گھبرانے کی کیا ضرورت ہے- یہ خدا تعالیٰ کا عرفان ہی تھا جس کی وجہ سے آپ نے یہ کہا- آپ خدا تعالیٰ کو اپنے اندر دیکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ میری ہلاکت سے خدا تعالیٰ کے عرفان کی ہلاکت ہو جائے گی اس لئے کوئی مجھے ہلاک نہیں کر سکتا- ایک دوسرے موقع پر رسول کریم ﷺ کا عرفان اس طرح ظاہر ہوا کہ مکہ کے قریب کا ایک آدمی تھا جس کا ابوجہل کے ذمہ کچھ قرضہ تھا- اس نے ابوجہل سے قرضہ مانگنا شروع کیا مگر وہ لیت و لعل کرتا رہا- اس زمانہ میں مکہ کے شرفاء نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی تھی جس کا کام یہ تھا کہ جو لوگ مظلوم ہوں ان کی امداد کرے- اس میں رسول کریم ﷺ بھی شامل تھے- وہ شخص رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ ابوجہل نے میرا روپیہ مارا ہوا ہے آپ مجھے اس سے حق لے دیں- رسول کریم ﷺ نے اسے یہ نہ کہا کہ ابوجہل میرا دشمن ہے میرے خلاف شرارتیں کرتا رہتا ہے بلکہ کہا آؤ میرے ساتھ چلو- آپ ؐابوجہل کے