انوارالعلوم (جلد 11) — Page 194
۱۹۴ دی جائے- جو امور کہ ملکی ہوں ان کے متعلق انہیں ہدایت کر دی جائے کہ دوسری اقوام اور دوسرے مذاہب کے نمائندوں سے تعاون کر کے کام کریں- اور صرف موٹی موٹی ہدایتیں ایسی دے دی جائیں کہ ان میں تغیر نہ ہو- لیکن جو امور قومی ہوں یا جن ملکی سوالات کا اثر خاص طور پر قوم پر پڑتا ہو ان کے متعلق ایک ایسی سکیم تجویز کر لی جائے جس میں سے بوقت ضرورت کچھ چھوڑا جا سکے اور ساتھ ہی مخفی طور پر یہ ہدایات دے دی جائیں کہ اس سکیم میں اس قدر تغیر آپ لوگ حسب ضرورت کرنے کے مجاز ہونگے مگر اس سے زائد تغیر پر اگر آپ لوگ مجبور ہوں تو آل مسلم پارٹی کانفرنس سے مشورہ کئے بغیر کارروائی نہ کریں- پھر اگر ایسی صورت پیش آئے اور یہ لوگ کسی امر میں مشورہ طلب کریں تو فوراً آل مسلم پارٹی کانفرنس کا اجلاس کر کے مشورہ کر لیا جائے اور نمائندوں کو بذریعہ تار اطلاع دے دی جائے- ہاں یہ امر مدنظر رکھا جائے کہ جو لوگ نمائندہ ہو کر گئے ہوں جہاں تک ہو سکے ان کی تجاویز کو اہمیت دی جائے اور بلاکافی وجہ کے ان کے مشورہ کو رد نہ کیا جائے کیونکہ موقع پر موجود ہونے والا آدمی بعض ایسی باتوں کو جانتا ہے جنہیں دوسرے نہیں جانتے- مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت اگر ان تجاویز پر عمل کیا گیا تو میں امید کرتا ہوں کہ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت بہت آسانی سے ہوگی- میرے نزدیک آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے لئے کام کا وقت ابھی آیا ہے- خالی اس امر کو شائع کر دینا کہ مسلمانوں کے یہ مطالبات ہیں کافی نہیں ہے- اگر ایسے لوگ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں گئے جنہوں نے ان مطالبات کو پس پشت ڈال دیا تو آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلہ کی قیمت کچھ بھی باقی نہیں رہتی- پس یہی وقت ہے کہ وہ ایک طرف گورنمنٹ کو غلط انتخاب کے بد نتائج سے آگاہ کرے اور دوسری طرف پبلک کو اس کے خطرات سے واقف کرے اور اس وقت تک آرام نہ لے جب تک کہ مسلمانوں کی نمائندگی کا فیصلہ مسلمانوں کے منتخب نمائندوں اور ان کی اہم سیاسی انجمنوں کے ذریعہ سے نہ ہو اور منتخب شدہ ممبر قومی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے کام کرنے کے لئے تیار نہ ہوں- احساس ذمہ داری میں سمجھتا ہوں کہ اس تھوڑے سے وقت میں اور اس جوش کی حالت میں جو کمیشن سفارشات کی اشاعت پر ملک میں پیدا ہو جائے گی صحیح راہنمائی بہت مشکل کام ہے- لیکن باوجود اس امر کے جاننے کے میں اس ذمہ داری کے