انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 98

۹۸ گورنمنٹ کی خدمات کی ہوتی ہیں یہ منبع کے لحاظ سے فضیلت ہوتی ہے۔اسی طرح ایک شخص جو امیر باپ کے گھر پیدا ہوتا ہے وہ امارات اپنے ساتھ لاتا ہے اور اسے یہ خوبی منبع کے لحاظ سے حاصل ہوتی ہے۔میں نے قرآن کریم کو اس فضیلت کے لحاظ سے بھی دوسری کتب سے افضل پایا۔ذاتی قابلیت کے لحاظ سے فضیلت دوسری وجہ فضیلت میرے ذہن میں یہ آئی کہ اندرونی اور ذاتی قابلیت اور طاقت کی وجہ سے بھی ایک چیز کو دوسری پر فضیلت حاصل ہوتی ہے جیسے دوائیں اپنے اندر طاقت رکھتی ہیں اس وجہ کے لحاظ سے بھی میں نے قرآن کریم کو سب سے بڑھ کر پایا۔نتائج کے لحاظ سے فضیلت تیسری وجہ فضیلت نتائج کے لحاظ سے ہوتی ہے اس وجہ سے بھی ایک چیز کو ہم دوسری پر فضیلت دے دیتے ہیں۔بعض چیزیں اپنی ذات میں اچھی ہوتی ہیں مگر دوسری چیزوں سے مل کر ان کااچھا نتیجہ پیدا نہیں ہوسکتا جیسے ڈاکٹر جرمز (germs) کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ ٹیکہ سے مر جاتے ہیں گویا انسان کے جسم میں جرمز اور ٹیکے کا مادہ ملنے سے الٹا اثر ہوتا ہے تو کبھی ایک چیز کو نتائج کے لحاظ سے فضیلت حاصل ہوتی ہے اور جو چیز اس میں بڑھ جاتی ہے اس کی برتری تسلیم کر لی جاتی ہے۔اسی طرح بعض تعلیمیں یوں بڑی اچھی اور مفید نظر آتی ہیں لیکن ان کے نتائج ایسے اعلیٰ پیدا نہیں ہوتے میں نے اس لحاظ سے بھی قرآن کریم کو دوسری کتب سے افضل پایا۔شدّت ِفائد ہ کے لحاظ سے فضیلت چوتھی وجہ فضیلت شدت فائدہ کے لحاظ سے ہوتی ہے۔فائدے تو سب چیزوں کے ہوتے ہیں مگر ایک میں زیادہ ہوتے ہیں اور دوسروں میں کم۔قرآن کریم میں شدت فوائد کے لحاظ سے بھی فضیلت پائی جاتی ہے۔کثرتِ فوائد کے لحاظ سے فضیلت پانچویں۔کثرت فوائد کے لحاظ سے بھی ہم ایک چیز کو دوسری پر فضیلت دیتے ہیں۔ایک دوائی ایک بیماری میں بڑا فائدہ دیتی ہے مگر ایک اور دوائی ہوتی ہے جو اتنا فائدہ اس بیماری میں نہیں دیتی مگر پچاس اور بیماریوں میں مفید ہوتی ہے اسے پہلی دوائی پر کثرت فوائد کے لحاظ سے فضیلت حاصل ہوگی۔قرآن کریم کو میں نے اس لحاظ سے بھی دوسری کتب سے افضل پایا۔