انوارالعلوم (جلد 11) — Page 97
۹۷ اکتفاء کریں جو پہلے لوگ حاصل کر چکے ہیں۔اور کیوں قرآنی کان میں سے ہم نئے ہیرے اور جواہرات نہ نکالیں۔پس میں قرآن کریم کے خزانہ میں گیا کیونکہ پہلے میں وہاں سے کئی بار لعل و جواہر نکال چکا تھا۔اور پھر اپنے دامن کو بھر کر لایا۔جب میں اس خزانہ میں قرآن کریم کی خوبیاں معلوم کرنے کے لئے گیا تو مجھے ایک عجیب بات سوجھی۔اور وہ یہ کہ بجائے اس کے کہ اس خزانہ میں میں اندھادھند ہاتھ ماروں اور جو چیز میرے ہاتھ میں آئے اسے اٹھالوں حالانکہ ممکن ہے اس سے بہتر چیز وہاں موجود ہو اور میں اسے نہ اٹھا سکوں اس لئے کیوں نہ میں اصولی طور پر غور کروں کہ مجھے کیا لینا چاہیے تب مجھے خیال آیا کہ کسی کتاب کی فضیلت اور اکملیت ثابت کرنے کے لئے یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اس کے مضامین پر غور کریں اور اس طرح اس کی کوئی خوبی معلوم کریں بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ کسی چیز کو کسی دوسری چیز پر فضیلت کیوں حاصل ہوتی ہے۔پھر یہ دیکھنا چاہیے کہ جو فضیلت کے معیار ہیں اور جن کی وجہ سے کسی کو فضیلت دی جاتی ہے وہ کس قدر قرآن میں پائے جاتے ہیں۔قرآنی فضیلت کے چھبیس(۲۶) وجوہ جب میں نے اس رنگ میں غور کیا تو قرآن کریم کا سمندر میری آنکھوں کے سامنے آگیا اور مجھے معلوم ہوا کہ ہر فضیلت کی وجہ جو دنیا میں پائی جاتی ہے اور جس کی بنا پر ایک چیز کو دوسری چیز پر فضیلت دی جاتی ہے وہ بدرجہ اتم قرآن کریم میں پائی جاتی ہے اور فضیلت دینے والی خوبیوں کے سارے رنگ قرآن کریم میں موجود ہیں۔میں نے اس وقت سرسری نگاہ سے دیکھا تو قرآن کریم کی فضیلت کی چھبیس وجوہات میرے ذہن میں آئیں۔بالکل ممکن ہے کہ یہ وجوہات اس سے بہت بڑھ کر ہوں اور میں پھر غور کروں یا کوئی اور غور کرے تو اور وجوہات بھی نکل آئیں مگر جتنی وجوہات اس وقت میرے ذہن میں آئیں ان میں میں نے قرآن کریم کو تمام کتب سے افضل پایا۔منبع کی افضیلت (۱) پہلی وجہ کسی چیز کے افضل ہونے کی اس کے منبع کی افضلیت ہوتی ہے جیسے گورنمنٹ کی ملازمت میں باپ نے جو گورنمنٹ کی خدمات کی ہوتی ہیں ان کا لحاظ رکھا جاتا ہے اور ایک دوسرے شخص کو جو تعلیم اور قابلیت کے لحاظ سے بالکل مساوی ہوتا ہے اس پر ایسے شخص کو ترجیع دے د ی جاتی ہے جس کے باپ دادا نے