انوارالعلوم (جلد 11) — Page 602
۶۰۲ فضائل القرآن(نمبر ۳) کہ مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ اِلاَّ وَالشَّیْطَانُ یَمَسُّہٗ حِیْنَ یُوْلَدُ فَیَسْتَھلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّ الشَّیْطَانِ اِیَّاہُ اِلَّا مَرْیَمَ وَابْنَھا ۶۴ یعنی ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے اسے شیطان چھوتا ہے جس سے وہ روتا ہے سوائے مسیح اور اس کی ماں مریم کے۔اس سے مراد صرف مریم اور عیسیٰ نہیں بلکہ ہر وہ آدمی جو مریمی صفات والا ہوتا ہے مراد ہے ورنہ کہنا پڑے گا کہ نعوذ باﷲ شیطان نے رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو بھی چھؤا تھا۔اس حدیث میں دراصل رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بتایا ہے کہ دو کامل پیدا ئشیں ہوتی ہیں۔ایک مریمی پیدائش اور دوسری مسیح والی پیدائش۔جو انسان مریمی صفت لے کر پیدا ہوتا ہے وہ مسیح بنتا ہے اور جو مسیحیت کی صفت لے کر پیدا ہوتا ہے وہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم بنتا ہے۔مسیحیت کی صفت پر پیدا ہونے والے جلالی نبی تھے اور مریمیّت کی صفت رکھنے والے جمالی نبی۔ایک میں عکس کی صفت کامل تھی اور دوسرے میں انعکاس کی۔ایک وہ ہیں جن کی اصل صفت نسوانی ہے اور رجولیت بعد میں کامل ہوتی ہے یعنی ماتحت اور جمالی نبی اور ایک وہ ہیں جو مسیحیت کے وجود سے پیدا ہوتے ہیں اور پھر ان کی نسوانیت مکمل ہوتی ہے۔یہ جلالی نبی یا شرعی نبی ہیں۔غرض روحانی سلسلہ میں بھی جوڑے پائے جاتے ہیں اور کبھی بھی کوئی انسان کامل نہیں ہوسکتا جب تک اس کی رجولیت اور نسائیت کی صفات آپس میں ملیں نہیں اور دونوں صفات مکمل نہ ہوں۔جنہیں ہم دوسرے الفاظ میں اخلاق کا تأثیری یا تأثری پہلو کہہ سکتے ہیں۔جب یہ دونوں پہلو پیدا ہوں تب جاکر وہ نئی روح پیدا ہوتی ہے جو ایک نئی پیدائش کہلاتی ہے اور تأثیر اور تأثر کے ملنے سے ہی روحانیت کوسکون حاصل ہوتا ہے اور انسان اپنے قلب میں اطمینان پاتا ہے یہاں تک کہ اسےایک نئی پیدائش حاصل ہوجاتی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کا مقرب بن جاتا ہے۔یہ روحانی علم النفس کا ایک وسیع مسئلہ ہے کہ انسان کے جتنے اخلاق ہیں ان میں سے بعض رجولیّت کی قوت سے تعلق رکھتے ہیں اور بعض نسائیت کی قوت سے۔جب یہ دونوں آپس میں ملتے ہیں تب اعلیٰ اخلاق پیدا ہوتے ہیں۔مگر یہ مضمون چونکہ اس وقت میرے ساتھ تعلق نہیں رکھتا اس لئے میں نے اس کی طرف صرف اشارہ کردیا ہے۔