انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 601 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 601

۶۰۱ فضائل القرآن(نمبر ۳) نسائیت فیضان کا۔لیکن بعد میں ایک یا دوسرے کی طرف انسان پھر جاتا ہے۔البتہ بعض استثنائی صورتیں بھی ہوتی ہیں۔اور ایسے انسان مریمی صفت ہوتے ہیں۔یعنی شروع سے ہی ان کی رجولیت اور نسائیت ایک رنگ میں رنگین ہوتی ہے اور وہ تقدس کے مقام پر ہوتے ہیں۔یعنی بعض لوگوں میں فطرتاً ایسا مادہ ہوتا ہے کہ تاثیر کا مادہ بھی ان کے اندر ہوتا ہے اور تاثر کا مادہ بھی۔جب ان کی رجولیت اور نسائیت کامل ہوجاتی ہیں تو ان سے ایک بچہ پیدا ہوتا ہے جو قدوسیت یا مسیحیت کا رنگ رکھتا ہے لیکن باقی لوگ کسبی طور پر یہ بات حاصل کرتے ہیں۔جس انسان کے اندر ہی یہ دونوں مادے ہوں اس کو نیا مرتبہ ملتا اور اس کی ایک نئی ولادت ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سورۃ تحریم سے جب یہ استدلال کیا کہ بعض انسان مریمی صفت ہوتے ہیں۔تو اس پر نادانوں نے اعتراض کیا کہ مرزا صاحب کبھی عورت بنتے ہیں۔کبھی حاملہ ہوتے ہیں اور کبھی بچہ جنتے ہیں۔حالانکہ تمام صوفیاء یہ لکھتے چلے آئے ہیں۔چنانچہ حضرت شہاب الدین صاحب سہروردی ؒ اپنی کتاب ’’عوارف المعارف‘‘ میں حضرت مسیح ؑسے یہ روایت کرتے ہیں کہ لَنْ یَّلِجَ مَلَکُوْتَ السَّمَآءِ مَنْ لَمْ یُوْلَدْ مَرَّتَیْنِ۶۲؂ یعنی کوئی انسان خدائی بادشاہت میں داخل نہیں ہوسکتا۔جب تک دو دفعہ پیدا نہ ہو۔ایک وہ پیدائش جو خدا کے ہاتھوں سے ہوئی۔اور دوسری مریم والی پیدائش۔پھر اپنی طرف سے کہتے ہیں۔وَ صَرْفُ الْیَقِیْنِ عَلَی الْکَمَالِ یَحْصُلُ فِی ھٰذِہِ الْوِلَادَۃِ وَ بِھٰذِہِ الْوِلَادَۃِ یَسْتَحِقُّ مِیْرَاثَ الْاَنْبِیَاءِ وَ مَنْ لَمْ یَصِلْہُ مِیْرَاثُ الْاَنْبِیَاءِ مَا وُلِدَ وَ اِنْ کَانَ عَلٰی کَمَالٍ مِنَ الْفِطْنَۃِ وَ الذَّکَاءِ لِاَنَّ الْفِطْنَۃَ وَ الذَّکَاءَ نَتِیْجَۃُ الْعَقْلِ۔وَ الْعَقْلُ اِذَا کَانَ یَابِسًا مِنْ نُورِ الشَّرْعِ لَا یَدْخُلُ الْمَلَکُوْتَ وَلَا یَزَالُ مُتَرَدِّدًا فِیْ الْمُلْکِ۶۳؂ یعنی یقین کے کمالات کے درجہ تک پہنچنا ایسی ولادت کے بعد ہوتا ہے جو دوسری ولادت ہوتی ہے۔اس کے بعد انبیاء کا ورثہ ملتا ہے۔پھر کہتے ہیں جسے یہ میراث نہ ملے نہ انبیاء والے علوم ملیں وہ سمجھے کہ اس کی دوسری ولادت نہیں ہوئی۔اگرچہ عقلی طور پر اسے بڑے بڑے لطیفے سوجھیں اور اگرچہ اس میں بڑی ذکاء ہو۔یہ عقل کا نتیجہ ہوگا۔روحانیت کا نتیجہ نہیں ہوگا اور عقل جب تک خدا کی طرف سے نور نہ آئے روحانیت میں داخل نہیں ہوتی بلکہ نیچر میں ہی رہتی ہے۔پس روحانیت میں بھی یہ جوڑے ہوتے ہیں۔اسی کی طرف اس حدیث میں اشارہ ہے