انوارالعلوم (جلد 11) — Page 460
۴۶۰ شاید شملہ میں کہ جہاں دونوں مجلسیں جمع ہوتی ہیں موقع مل بھی جائے لیکن دوسرے صوبوں کے ممبروں کو دہلی اور شملہ میں کام کرتے ہوئے اپنی مقامی کونسلوں کے ممبروں سے ملنے کا کوئی موقع ہی نہیں ہو سکتا- غرض جو دلیل کمیشن نے تعلقات کے متعلق دی ہے وہ اس کے خلاف ہے، موید نہیں- بلاواسطہ انتخاب سے اسمبلی کے ممبر کا اپنے علاقہ سے بھی کوئی تعلق نہیں رہے گا اور کونسل سے بھی ہرگز تعلق پیدا نہ ہو گا- دوسری دلیل کمیشن نے یہ دی ہے کہ جب حکومت اتحادی اصول پر ہو تو علاقوں کے لحاظ سے نمائندگی ضروری ہوتی ہے تاکہ اتحادیت کے اصول کی حفاظت ہو سکے- یہ دلیل بیشک وقیع ہے- اتحادی اصول کی نگرانی کرنے والے لوگ مرکز میں ضرور موجود رہنے چاہئیں لیکن اس کا وہ طریق جو کمیشن نے ایجاد کیا ہے کہیں بھی جاری نہیں ہے- دنیا کی تمام پہلی مجالس ملک کے نمائندوں کی طرف سے چنی جاتی ہیں کوئی فیڈریشن ایسی نہیں کہ جس کی پہلی اسمبلی کے نمائندے صوبہ جات کی طرف سے آتے ہوں- ہاں دوسری مجلس کے ممبر یونائیٹڈسٹیٹس امریکہ میں ۱۹۱۳ء تک ریاستوں کی مجالس کی طرف سے منتخب ہو کر آتے تھے- اور سوئٹررلینڈ کی بعض کنٹنز (CANTONS)میں اب بھی بجائے بلاواسطہ کے بالواسطہ انتخاب ہوتا ہے مگر صرف دوسری مجلس کے لئے پہلی مجلس کے لئے نہیں- لیکن کمیشن یہ مشورہ دیتا ہے کہ دنیا کے دستور کے خلاف پہلی مجلس کو علاقوں کا نمائندہ بنایا جائے- حالانکہ اتحادی حکومت کا اصول یہ ہے کہ مرکز میں دونوں حصوں کے نمائندے ہونے چاہئیں علاقوں کے بھی- اور افراد ملک کے بھی اور اس کا صرف ایک ہی طریق دنیا میں اختیار کیا گیا ہے جو یہ ہے کہ پہلی مجلس کو جو زیادہ اختیار رکھتی ہے افراد کا نمائندہ بنایا جاتا ہے اور دوسری مجلس کو جو کم اختیارات رکھتی ہے علاقوں کا نمائندہ قرار دیا جاتا ہے- جس کی یہ وجہ ہے کہ اصل حکومت کا حق افراد کے ہاتھ میں سمجھا جاتا ہے اور علاقوں کو صرف اقلیتوں کا قائم مقام سمجھا جاتا ہے اس لئے دوسری مجلس کے اختیارات حفاظتی تدابیر تک محدود رکھے جاتے ہیں اور پہلی مجلس کو اصل قانون ساز مجلس سمجھا جاتا ہے- لیکن کمیشن تمام اصول سیاست تمام اصول انصاف اور تمام دنیا کے تجربوں کے خلاف یہ عجیب مشورہ دیتا ہے کہ اسمبلی اور کونسل آف سٹیٹ دونوں کا انتخاب صوبہ جات کی کونسلیں کریں- جب ایک ہی منتخب کرنے والے ہونگے تو دو قسم کی