انوارالعلوم (جلد 11) — Page 457
۴۵۷ رکھتے ہوئے بنائے جائیں اتنا ہی اچھا ہے- لیکن اگر چار پانچ سو ممبر سردست بنانے مناسب نہ سمجھے جائیں تو تین ساڑھے تین سو ممبر ضرور ہونے چاہئیں اس سے کم تعداد سے ٹھیک طرح سے ملک کی نمائندگی نہیں ہو سکتی- سائمن کمیشن کی یہ تجویز ہے کہ اسمبلی کے ممبروں کی تنخواہیں صوبہ جات کے بجٹ سے دی جائیں میرے نزدیک کسی طرح بھی مناسب نہیں اور جہاں تک مجھے معلوم ہے یہ طریق دوسرے ملکوں میں رائج نہیں ہے کہ فیڈرل اخراجات صوبہ جات ادا کریں- گو ان کے اخراجات کو کمیشن نے نان ووٹیبل (NON VOTABLE)رکھا ہے لیکن پھر بھی یہ احساس کہ فیڈرل اسمبلی کے اخراجات مرکز ادا نہیں کرتا بلکہ صوبہ جات ادا کرتے ہیں ان کے درجہ میں تخفیف کر دیتا ہے اور یوں بھی یہی بات معقول معلوم ہوتی ہے کہ جس جگہ کا کام کیا جائے وہیں سے تنخواہ ملے- جب مرکزی ایگزیکٹو کو مرکز کے بجٹ سے تنخواہ ملے گی تو کیوں مجلس واضع قوانین کے اخراجات مرکزی فنڈ سے نہ ملیں- اب میں اس سوال کو جو سب سے اہم ہے لیتا ہوں یعنی اسمبلی کے ممبروں کا بالواسطہ طریق سے انتخاب- بعض لوگ اس طریق انتخاب کو دنیا کے مقررہ اصول سے بالکل نرالا دیکھ کر جب حیران رہ جاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ طریق محض اس وجہ سے اختیار کیا گیا ہے کہ چونکہ کمیشن نے انگریز ممبروں کی نمائندگی ان کی تعداد سے تین سو گنا زیادہ مقرر کی ہے اور اس قدر قلیل جماعت اپنے میں سے اس قدر ممبر مہیا نہیں کر سکتی کہ وہ دونوں جگہ کام کریں اس لئے کمیشن نے اس طریق کو ایجاد کیا ہے تا ایسا نہ ہو کہ انگریز ممبر اپنی نمائندگی کے برابر ممبر بھی مہیا نہ کر سکیں اس طرح ایک ہی جماعت کو دونوں جگہ کام کرنے کی اجازت دے کر کمیشن نے اس مشکل کو دور کیا ہے- میرے نزدیک کوئی وجہ نہیں کہ ہم کسی شخص کی طرف اپنے پاس سے محرکات بنا کر منسوب کریں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عجیب طریق نہ صرف بالکل خلاف عقل ہے بلکہ دنیا کے تجربہ کے بھی خلاف ہے اور جس قدر دلائل اس کی تائید میں دیئے گئے ہیں سب نہایت کمزور اور بودے ہیں- پہلی دلیل جو کمیشن نے دی ہے یہ ہے کہ بلاواسطہ انتخاب کی صورت میں حلقہ انتخاب اس قدر بڑا ہو جاتا ہے کہ ممبر اپنے منتخب کرنے والوں سے تعلق نہیں رکھ سکتے اور انتخاب میں بہت تکلیف ہوتی ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ اسمبلی کے حلقے بڑے ہیں اور اس میں بھی