انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 404

۴۰۴ پوری دلچسپی نہیں ہوتی- چنانچہ انگلستان میں عورتوں نے کس زور سے ووٹ کا حق حاصل کیا تھا لیکن اس کے استعمال میں وہ شوق ظاہر نہیں کیا جس کی وجہ سے یہی تھی کہ انہیں ابھی ووٹ کے استعمال کا طریق نہیں آیا اور نہ سیاسیات کی تفصیلات سے دلچسپی پیدا ہوئی ہے- خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان پنجاب اور بنگال میں گو ظاہراً اکثریت میں ہیں لیکن طاقت کے لحاظ سے اقلیت میں ہیں اور اس وجہ سے ویسے ہی حفاظت کے مستحق ہیں جس طرح کہ ظاہریاقلیتیں- کیونکہ زیادہ آدمیوں پر ظلم ہوتے رہنا تھوڑے آدمیوں پر ظلم ہوتے رہنے سے زیادہ برا اور ظالمانہ فعل ہے- لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک صداقت ہے کہ اکثریت ہمیشہ کے لئے حفاظت کی مستحق نہیں ہو سکتی کیونکہ اس طرح دائمی حفاظت سے مطمئن ہو کر وہ کمزور ہونے لگتی ہے اور نہ صرف خود تباہ ہوتی ہے بلکہ ملک کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے- پس جہاں تک اکثریت کی حفاظت کا سوال ہے اس کا کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ یہ بات صرف عارضی ہو سکتی ہے اور اس حفاظت کا عارضی رکھنا ملک کے لئے ہی ضروری نہیں بلکہ اکثریت کی اپنی زندگی کے قیام کے لئے بھی ضروری ہے- اس اصل کو پیش کرنے کے بعد میں اب پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کے سوال کو لیتا ہوں- میں بتا چکا ہوں کہ میرے نزدیک اکثریت اسی وقت حفاظت کی مستحق ہوتی ہے جب وہ معنوی طور پر اقلیت ہو اور یہ کہ وہ اس صورت میں بھی دائمی حفاظت کی مستحق نہیں ہوتی- پس اس اصل کے ماتحت پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کو جن کی نسبت میں یہ ثابت کر چکا ہوں کہ معنوی طور پر وہ اقلیت ہی ہیں گو حفاظت تو مل سکتی ہے لیکن صرف عارضی حفاظت مل سکتی ہے- پس ہمیں جہاں ان دونوں صوبوں میں مسلمانوں کی حفاظت کا سامان مہیا کرنا چاہئے وہاں یہ بھی غور کرنا چاہئے کہ اس حفاظت کے سوال کو کب اور کس طرح ختم کیا جائے- بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب اکثریت کہہ دے گی کہ اب ہمیں حفاظت کی ضرروت نہیں اس وقت حفاظتیتدابیر کو ختم کر دیا جائے گا- لیکن میں پہلے بتا چکا ہوں کہ یہ تدبیر قابل عمل نہیں کیونکہ ممکن ہے کہ جس وقت اکثریت کہے کہ اب ہمیں حفاظتی تدابیر کی ضرورت نہیں اس وقت دوسریاقوام یہ کہہ دیں کہ اب ہم ان کے چھوڑنے پر راضی نہیں اور اس طرح صرف ضد اور تعصب کی وجہ سے نہ کہ حقیقی ضرورت کے لحاظ سے حفاظتی تدابیر جو کہ درحقیقت