انوارالعلوم (جلد 11) — Page 403
۴۰۳ تاکید کی کہ آئندہ ملازمتوں میں مسلمانوں کے حق کو مقدم رکھا جائے کیونکہ یہ قوم بہت پیچھے رہ گئی ہے- لیکن لارڈ کرزن کی تجویز بھی کامیاب نہ ہو سکی کیونکہ ہندو دفاتر پر بہت قبضہ کر چکے تھے- اب یہ حال ہے کہ دفاتر پر ان کا قبضہ ہے، بنکوں پر ان کا قبضہ ہے اور تجارت پر ان کا قبضہ ہے- پنجاب میں قانون زمیندارہ کے منظور ہونے سے پہلے قریباً تیس فیصدی زمینیں مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر ان کے ہاتھ میں جا چکی تھیں- اور بنگال میں انگریزی عمل داری کے شروع ہی میں تحصیل داری کے ٹھیکوں میں وہ ملک کے مالک ہو چکے تھے- اب جو کچھ باقی ہے وہ رہن ہے یا قرضہ کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے کیونکہ زمیندار قرض لینے پر مجبور ہے اور ہندو ساہوکار اپنی زیادہ طلبی کے راستہ میں کسی قانون کو مانع نہیں پاتا- پس ان حالات میں مسلمانوں کو پنجاب اور بنگال میں حقیقی اکثریت کا مالک نہیں کہا جا سکتا حالانکہ جس اکثریت سے کوئی قوم اپنے حقوق کی حفاظت کر سکتی ہے وہ حقیقی اکثریت ہے نہ کہ خالی تعدادی اکثریت- پس جب تک مسلمانوں کو حقیقی اکثریت حاصل نہ ہو جائے اس وقت تک وہ ان دونوں صوبوں میں بھی خاص حفاظت کے مستحق ہیں- اوپر کے تمدنی نقص کے علاوہ ایک اور نقص بھی ہے اور وہ یہ کہ فرنچائز (FRANCHISE)کے اصول ایسے بنائے گئے ہیں جن کی وجہ سے مسلمانوں ووٹر دوسری اقوام سے تھوڑے رہ جاتے ہیں- چنانچہ پنجاب جس میں مسلمان ۲ء ۵۵ کی تعداد میں ہیں ان کے ووٹروں کی تعداد ۷ء۴۳ ہے اور بنگال جس میں مسلمان ۶ء۵۴ ہیں- اس میں مسلمان ووٹروں کی تعداد ۱ء۴۵ فیصدی ہے- پس جب کہ بناوٹی قوانین سے مسلمانوں کے ووٹروں کی تعداد کو کم رکھا جاتا ہے تو مسلمان اکثریت میں کس طرح سمجھے جا سکتے ہیں- اگر یہ کہا جائے کہ آئندہ اس قسم کا انتظام کیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کو ان کی تعداد کے مطابق ووٹر مل جائیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سوال تو جس قدر جلد ہو سکے حل ہونا چاہئے لیکن باوجود اس نقص کے دور کرنے کے مسلمان فورا ً اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے کیونکہ ووٹر فوراً اپنے کام اور اپنے فرض کو نہیں سیکھ جاتے- کچھ عرصہ مسلمانوں کو پھر بھی چاہئے ہوگا جس میں کہ وہ اپنے ووٹروں کو ووٹ دینے کا طریق سکھا سکیں اور ان میں سیاسیات سے دلچسپی پیدا کرا سکیں- کیونکہ شروع میں غیر مسلموں کو مسلمانوں پر یہ فوقیت ہو گی کہ ان کے ووٹروں کی زیادہ تعداد پچھلے بارہ سال کے تجربہ کے ماتحت اپنے کام سے واقف ہو چکی ہو گی اور سیاسی دلچسپی اس میں پیدا ہو چکی ہوگی- نئے ووٹر کو