انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 11

۱۱ قانون کے اندر رہتے ہوئے ہر ممکن طریق سے اس سرکشی والی روح کا مقابلہ کرے اور اپنی آئندہ نسل کو غلامی اور بزدلی کی دو لعنتوں سے بچائے اور مسلمان اگر اس فتنہ کا مقابلہ نہیں کریں گے تو یقیناً آئندہ وہ شودروں کی طرف ہو کر رہیں گے- ان حالات کو آپ کے سامنے پیش کر کے میں آپ سے چاہتا ہوں کہ آپ کے نزدیک اگر کوئی ایسی راہ ہے کہ مسلمان اپنی ضروری غذا کو بھی حاصل کر سکیں اور ان کی مذہبی اور اخلاقی حالت بھی درست رہے- اور ان کے ہمسائیوں کے جذبات بھی ناواجب طور پر زخمی نہ ہوں تو آپ مجھے اس سے مطلع کریں میں ہر معقول تجویز پر غور کرنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہوں- ٍ آپ پر یہ بھی واضح رہے کہ مجھے ہر گز ان لوگوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے جنہوں نے بعض شریروں کے اکسانے سے مذبح کو گرا دیا ہے- میں ہر گز اس پر خوش نہیں کہ ضرور ان کو سزا ہی ملے- اگر مسلمانوں کے جائز حقوق ان کو مل جائیں اور اگر یہ وحشیانہ طریق ترک کر دیا جائے اور دوسرے کے کاموں میں خواہ مخواہ دخل نہ دیا جائے تو میں بڑی خوشی سے ان لوگوں کو معاف کر دوں گا- اور دوسری اقوام سے مل کر گورنمنٹ سے درخواست کروں گا کہ آئندہ دلوں کی صفائی کیلئے ان لوگوں کو چھوڑ دیا جائے- اسی طرح میں ہر وہ تجویز جس سے ہندوؤں اور سکھوں کے احساسات کا ممکن سے ممکن حد تک خیال رکھ کر مذبح کو جاری کیا جا سکے- قبول کرنے کے لئے تیار ہوں اور اس پر جہاں تک میرا اختیار اور میری طاقت ہے عمل کرانے کا ذمہ وار ہوں- مثلاً اگر مجھے یہ بتایا جائے کہ قادیان کے نواح میں شہر سے باہر )کیونکہ حفظان صحت کا خیال ضروری ہے( فلاں جگہ مذبح بنایا جائے` پہلی جگہ پر نہ ہو یا یہ کہ دیواریں پہلے سے زیادہ اونچی ہوں یا مثلاً یہ کہ دوکانیں صرف شہر کے فلاں فلاں حصہ میں رکھی جائیں یا اور ایسی ہی تجاویز جس سے ہندوؤں اور سکھوں کے احساسات کو کم سے کم صدمہ پہنچتا ہو- پیش کی جائیں تو میں انشاء اللہ ان کی تائید کروں گا اور ان کے حصول کے لئے ہندوؤں اور سکھوں کی پوری مدد کروں گا- لیکن اگر مجھے اس پر مجبور کیا جائے کہ گائے کے ذبیحہ کو کلی طور پر بند کر دیا جائے تو میں اسے نہ صرف خلاف عقل مطالبہ سمجھتا ہوں بلکہ گذشتہ طاقت کے مظاہرہ کے بعد ذبیحہ گائے کے ترک کو مسلمانوں کے اخلاق کو بھی اور ان کے مذہب کو بھی برباد کرنے والا سمجھتا ہوں- اور اس کے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں- بلکہ اس مطالبہ کی صورت میں میں یہ اپنا فرض سمجھوں گا کہ مسلمانوں کو اس ظلم سے