انوارالعلوم (جلد 11) — Page 315
۳۱۸ زیک نسل کے لوگوں کو علمی اور مذہبی معاملات میں خود مختاری حاصل ہوگی- غرض یہ امر مسلمہ ہے کہ مذہبی، تمدنی اور تبلیغی امور میں حکومت کو دخل اندازی کی اجازت نہیں ہونی چاہئے اور مختلف حکومتوں میں رائج ہے اور بعض حکومتوں کے آئین اساسی میں شامل ہے پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہندوستان جس کے حالات ان ملکوں سے زیادہ نازک ہیں اس میں ان امور کی حفاظت کا سامان نہ کیا جائے- ساتواں سوال پرسنل لاء (PERSONAL LAW) کا ہے- اس کی حفاظت کی ضرورت کو بھی دنیا تسلیم کر چکی ہے- چنانچہ یوگوسلیویا اپنے معاہدہ کے آرٹیکل دس میں اقرار کرتا ہے کہ-: ‘’سرب، کروٹ اور سلیویا کی حکومت تسلیم کرتی ہے کہ مسلمانوں کو ان کے اہلی قانون اور شخصی درجہ کے متعلق وہ ایسی سہولتیں دے گی کہ جن سے وہ مسلمانوں کے رواج کے مطابق اپنے ان معاملات کو طے کرنے کے قابل ہو سکیں’‘- آٹھواں مطالبہ ملازمتوں میں مناسب حصہ کے متعلق ہے گو کسی دوسرے قانون اساسی میں اس کی شمولیت نظر نہیں آتی لیکن پولینڈ کے یہودیوں اور وہاں کی گورنمنٹ میں جو صلح کا معاہدہ تجویز ہوا تھا اس میں یہ شرط بھی تھی کہ یہودیوں کو ان کی آبادی کی نسبت سے ملازمتوں میں حق ملے گا اور گو بوجہ سیاسی اسباب کے اس معاہدہ کی تکمیل نہیں ہو سکی لیکن اس سے اس قدر ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کے باہر بھی اس احتیاط کی ضرورت اور معقولیت کو تسلیم کیا جا چکا ہے- نواں مطالبہ یہ ہے کہ ہندوستان کا آئین اساسی اقلیتوں اور صوبہ جات کی مرضی کے بغیر تبدیل نہ ہو سکے یہ اصل بھی تسلیم کیا جا چکا ہے- صوبہ جات کے متعلق اس کا اطلاق یونائیٹڈسٹیٹس میں ہوتا ہے اور اقلیتوں کی مرضی کے بغیر اس میں تبدیلی کی بندش نئی یورپین حکومتوں میں ہے جہاں اسے معاہدہ کی صورت دے کر لیگ آف نیشنز کی مرضی کے بغیر ان امور میں جو اقلیتوں کے حقوق کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں، تبدیلی کا راستہ بند کر دیا گیا ہے- دسواں مطالبہ یہ ہے کہ صوبہ جات کی حدود میں تغیر بغیر صوبہ متعلقہ کی مرضی کے نہ ہو سکے یہ امر اصل میں فیڈریشن کا حصہ ہے اور یونائیٹڈ سٹیٹس وغیرہ سب جگہ اس پر عمل ہو رہا ہے- غرض جس قدر مطالبات ہندوستان کی اقلیتوں کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں وہ علاوہ معقول ہونے کے متعلق ممالک کے آئین دستوری میں پہلے شامل کئے جا چکے ہیں اس لئے وہ نہ صرف عقل کی تصدیق اپنے ساتھ رکھتے ہیں، بلکہ تجربہ کی تصدیق بھی انہیں حاصل ہے-