انوارالعلوم (جلد 11) — Page 314
۳۱۴ کے خلاف کانسٹی ٹیوشن تبدیل نہ ہو سکے- یہ اصل بھی مسلّمہ ہے اور مختلف حکومتوں میں اس کے لئے مختلف قواعد بنائے گئے ہیں- چنانچہ یورپ کی نئی حکومتوں میں جو جنگ کے بعد قائم ہوئی ہیں اقلیتوں کی حفاظت کے متعلق جو حفاظتی تدابیر آئینِ اَساسی میں شامل کی گئی ہیں ان کے بدلنے کا حق اکثریت کو نہیں دیا گیا بلکہ انہیں ایک معاہدہ کی صورت دی گئی ہے یا ایک نہ بدل سکنے والے قانون کی صورت دی گئی ہے- پس یہ اصل مسلم ہے گو اس کی عملی شکل میں اختلاف ہو- پانچواں مطالبہ یہ ہے کہ جب تک حقیقی یا عملی اقلیتیں (جس سے میری مراد وہ اکثریت ہے جو سیاسی حالات کے ماتحت عملاً اقلیت بنا دی گئی ہو- اس کی تفصیل میں تفصیلات سکیم پر ریویو کرتے ہوئے کروں گا)- اپنے پاؤں پر نہ کھڑی ہو جائیں، اس وقت تک جداگانہ انتخاب کا سلسلہ جاری رہے- یہ مطالبہ بھی حکومت کو کمزور کرنے والا نہیں ہے بلکہ اس کی مثال بھی دوسری اقوام کے قوانین اساسی میں ملتی ہے- چنانچہ زیکو سلویکا میں روتھینیا میں کمیونل (COMMUNAL)انتخاب ہوتا رہا ہے- ۳۵؎ چھٹے مطالبہ کا پہلا حصہ یہ ہے کہ گورنمنٹ، مذہب، تبلیغ یا تبدیلی مذہب کے بارہ میں پوری آزادی دے اور اقلیتوں یا افراد کی تمدنی، اقتصادی یا ادبی آزادی کو محدود نہ کرے- اس بارہ میں زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں- درحقیقت تو یہ حق ڈیماکریسی کے مفہوم کے نیچے ہی آ جاتا ہے لیکن یہ اصل زیکوسلویکا کی حکومت اپنے آئین اساسی میں شامل کر چکی ہے- اسی طرح پولینڈ نے اپنے معاہدہ کے آرٹیکل نمبر۱۰ میں یہودیوں کو نہ صرف اپنی زبان کے پڑھنے اور بولنے کی آزادی دی ہے بلکہ آرٹیکل نمبر۹ میں اس کے لئے پبلک فنڈ سے روپیہ مہیا کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے اور اس روپے کو خرچ کرنے کا حق یہودیوں کی مقرر کردہ کمیٹیوں کے سپرد کیا ہے- آرٹیکل نمبر۱۱ میں سبت کی حفاظت کا اقرار کیا ہے بلکہ پولینڈ نے یہودی سپاہیوں کے لئے کوشر (KOSHER)گوشت تک کے مہیا کرنے کا وعدہ کیا ہے- یوگوسلیویا میں مسلمانوں کی اقلیت ہے اور اس حکومت نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے کہ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی جائے گی ان کے اوقاف کی حفاظت کی جائے گی، اور مذہبی یا خیراتی سوسائٹیوں کے بنانے میں کوئی روک پیدا ہونے نہیں دی جائے گی- رومانیہ نے بھی اپنے معاہدہ کے آرٹیکل گیارہ میں وعدہ کیا ہے کہ سیکسنز اور