انوارالعلوم (جلد 11) — Page 143
۱۴۳ کرتا۔پہلی کتب میں قرآن کریم کی موجودگی کے معنی مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ قرآن کریم کی ساری تعلیم وہی ہے جو پہلی کتابوں میں تھی۔بلکہ یہ ہیں کہ پہلی کتابوں کی صحیح تعلیم قرآن کریم میں موجود ہے اور اس سے زائد بھی ہے۔پھر پہلی کتب میں اس کلام کی موجودگی سے یہ بھی مراد ہے کہ ان میں ایک کتاب کی پیشگوئی پائی جاتی ہے۔اسی طرح تمام صفاتِ الٰہیہ کا قرآن کریم میں مبسوط بیان ہے۔مگر اور کتابوں میں اس طرح ذکر نہیں ہے۔انجیل میں صر ف پانچ سات صفات کا ذکر آتا ہے۔تورات میں نسبتاً زیادہ صفات کا ذکر ہے۔مگر قرآن نے جتنی صفات پیش کی ہیں اتنی تورات نے بھی پیش نہیں کیں۔پھر پہلی کتابیں ان صفات کو بطور دلیل پیش نہیں کرتیں بلکہ صرف دعاؤں میں ان کا ذکر آجاتا ہے۔حالانکہ ضروری ہے کہ صفاتِ الٰہیہ کا نہ صرف بالاستیعاب ذکر ہو بلکہ ان کے الگ الگ کام اور ان کے ثبوت بھی دئیے جائیں مگر یہ کام صرف قرآن کریم نے کیا ہے۔صفاتِ الٰہیہ کی تشریح بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونی چاہئے پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ صرف صفات کے نام بھی کافی نہیں جب تک ان کے صحیح معنی بھی بیان نہ کئے جائیں۔کیونکہ خالی نام صرف شدت محبت کے اظہار کے لئے بھی جمع کئے جاسکتے ہیں جب کہ ان ناموں کے لینے والا ان کی حقیقت سے کچھ بھی واقف نہ ہو۔جیسے پیار کے وقت انسان بہت سے نام لے لیتا ہے لیکن ان کی حقیقت کا اسے علم نہیں ہوتا۔پس صرف کسی صفت کا ذکر کردینا کافی نہیں ہوتا بلکہ ایک صفت کا ذکر ہو اور پھر اس کی تشریح اور توضیح بھی خدا تعالیٰ کے الفاظ میں ہو۔جیسے گورنمنٹ ایک قانون بناتی ہے تو ساتھ ہی بعض الفاظ کی تشریح بھی کردیتی ہے کہ فلاں لفظ کے یہ معنی ہیں تاکہ اس میں اختلاف نہ شروع ہوجائے۔اسی طرح خدائی کلام کا یہ بھی کام ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات بیان کرے اور خود ہی ان کی تشریح کرے۔چنانچہ دیکھ لو رحمٰن کا لفظ عربوں میں موجود تھا اور وہ اسے استعمال کرتے تھے۔قرآن کریم میں بھی آتا ہے وَقَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنَاھمْ ۴۵ یعنی وہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر رحمان خدا چاہتا تو ہم اس کے سوا دوسرے معبودوں کی پرستش نہ کرتے۔خود مسیلمہ کذاب بھی رحمن یمامہ کہلاتا