انوارالعلوم (جلد 11) — Page 59
۵۹ رہنے والے یا گاؤں کے رہنے والے ہیں جو باوجود عدم علم ظاہری کے یا کمی علم کے قرآن کے کئی معرفت کے نکتے بتا سکیں گے جو لوگوں کو پہلے معلوم نہ ہوں گے- قادیان کے کئی عربی سے ناواقف بھی عجیب معرفت اور نکات کی باتیں قرآن سے بیان کرتے ہیں- تم ایک عورت کی مثال پیش کرو جس نے قرآن کریم سے کوئی نئی بات نکالی ہو اور ایسی بات پیش کی ہو جو دنیا کو پہلے معلوم نہ تھی اور اب تو آپ میں کچھ ایسی عورتیں بھی موجود ہیں جو مولوی کہلاتی ہیں- میں پھر توجہ دلاتا ہوں اور سوال کرتا ہوں کہ تم میں سے کون ہے جسے قرآن شریف کی معرفت نصیب ہوئی ہو؟ اس کمی کی وجہ کیا ہے؟ تم میں سے کئی عورتیں ہیں جو کہتی ہیں کہ مردوں کی طرفداری کی جاتی ہے مگر میں پوچھتا ہوں کہ کیا خدا تعالیٰ کو بھی تم سے دشمنی ہے کہ وہ تمہاری مدد نہیں کرتا- کیوں خدا کے کلام کا دروازہ تم پر بند ہے اور کیوں فرشتے خدائی دربار تک تمہاری رسائی نہیں کراتے- آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی صرف یہ وجہ ہے کہ تم قرآن کو قرآن کر کے نہیں پڑھتیں اور نہیں خیال کرتیں کہ اس کے اندر علم ہے- فوائد ہیں- حکمت ہے- بلکہ صرف خدائی کتاب سمجھ کر پڑھتی ہو کہ اس کا پڑھنا فرض ہے اسی لئے اس کی معرفت کا دروازہ تم پر بند ہے دیکھو قرآن خدا کی کتاب ہے اور اپنے اندر علوم رکھتا ہے- قرآن اس لئے نہیں کہ پڑھنے سے جنت ملے گی اور نہ پڑھنے سے دوزخ بلکہ فرمایا کہفیہ ذکر کم- ۱؎ اس میں تمہاری روحانی ترقی اور علوم کے سامان ہیں- قرآن ٹونہ نہیں- یہ اپنے اندر حکمت اور علوم رکھتا ہے- جب تک اس کی معرفت حاصل نہ کرو گی قرآنکریم تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتا- تم میں سے سینکڑوں ہوں گی جنہوں نے کسی نہ کسی سچائی کا اظہار کیا ہو گا- لیکن اگر پوچھا جائے کہ تمہارے اس علم کا ماخذ کیا ہے تو وہ ہرگز ہرگز قرآن کو پیش نہ کریں گی بلکہ ان کی معلومات کا ذریعہ کتابیں، رسائل، ناول یا کسی مصنف کی تصنیف ہوں گی اور غالباً ہماری جماعت کی عورتوں میں حضرت مسیح موعود کی کوئی کتاب ہو گی- تم سے کوئی ایک بھی یہ نہ کہے گی کہ میں نے فلاں بات قرآن پر غور کرنے کے نتیجے میں معلوم کی ہے- کتنا بڑا اندھیر ہے کہ قرآن جو دنیا میں اپنے اندر خزانے رکھتا ہے اور سب بنینوعانسان کے لئے یکساں ہے اس سے تم اس قدر لاعلم ہو- اگر قرآن کا دروازہ تم پر بند ہو تو تم سے کس بات کی توقع ہو سکتی ہے؟