انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 60

۶۰ ایک عورت نے کس طرح ترقی کی میں تمہیں ایک عورت کا واقعہ سناتا ہوں کہ جسے صرف معمولی لکھنا پڑھنا آتا تھا- اس کے لکھنے کے متعلق مجھے اس وقت صحیح علم نہیں ہے لیکن بات ضرور تھی کہ اسے پڑھنا آتا تھا- اس نے قرآن کو قرآن کر کے پڑھا- جنت کی طمع اور دوزخ کے خوف سے نہیں، عادت اور دکھاوے کے طور پر نہیں بلکہ خدا کی کتاب سمجھ کر اور یہ سمجھ کر اس کے اندر دنیا کے تمام علوم ہیں اسے پڑھا- اس کے نتیجہ میں باوجود اس کے کہ اس نے کسی کے پاس زانوئے شاگردی طے نہیں کیا تمام دنیا کی استاد بنی- وہ عورت کون تھی؟ اس کا نام عائشہ رضی اللہ عنہا ہے- وہ بی بی فہمِ قرآن میں اکثر مردوں سے بڑھ گئی اس نے قرآن کو جیسا کہ سمجھنے کا حق تھا سمجھا- ان کی صرف ایک مثال سے دنیا کے مرد شرمندہ ہیں کہ وہ بایں ہمہ عقل و دانش اس فہم و فراست کو حاصل نہ کر سکے- وہ آیت یہ ہے ما کان محمد ابا احد من رجالکم و لکن رسول اللہ و خاتم النبین- ۲؎ یعنی محمدﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں دنیا نے سمجھا کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا- اور ادھر چونکہ آنحضرت ﷺ نے بھی فرما دیا کہ لا نبی بعدی ۳(؎جس سے آپ کی مراد تھی کہ میری شریعت کو منسوخ کرنے والا کوئی نبی نہ آئے گا) یہ امر ایسے خیال کے لوگوں کے لئے اور بھی موید ثابت ہوا- اور سب نے یہ نتیجہ نکالا کہ آپﷺ~ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا- مسلمان تمام دنیا میں پھیل گئے اور انہوں نے اپنے اس خیال کی خوب اشاعت کی- ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اس قسم کی باتیں ایک مجلس میں ہو رہی تھیں- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا وہاں سے گزریں اور آپ نے سن کر فرمایا ’’قولوا انہ خاتم الانبیاء ولا تقولو الا نبی بعدہ‘‘ ۴؎ دیکھو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے قرآن پر غور کرنے سے کس قدر صحیح نتیجہ نکالا کہ آج اس زمانہ کے نبی نے اس سے فائدہ اٹھایا- وہ خیالات جو تیرہ سو سال سے مسلمانوں کو مغالطہ میں ڈالے ہوئے تھے ان کو کس صفائی کے ساتھ رد فرمایا ہے- تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قرآن پر غور کرنے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فائدہ اٹھایا اور احمدی جماعت ان کی ممنوناحسان ہے- انہوں نے ان کی مشکلات کو آسان کر دیا- یہ تو ایک واقعہ ان کے فہمِ قرآن کا ہے-